تبلیغات
بلتستانی ، baltstani - نمازی کا لباس
قالب وبلاگ قالب وبلاگ

بلتستانی ، baltstani
 

به وبلاگ من خوش آمدید
 
نوشته شده در تاریخ جمعه 12 آذر 1389 توسط irshad hussain
سوال ۱۱۴۔ اگر حالت نماز میں ، نمازی کے منھ میں خون آجائے کیا اس کی نماز باطل ہے ؟
جواب:اگر خون منھ کے اندر ہے تو نماز باطل نہیں ہے لیکن اگر وہ ایک درھم یا اس سے زیادہ مقدار میں ، ہونٹوں سے باہر آجائے ، تو نماز کو ترک کردے ، منھ کو پانی سے دھوئے پھر دوبارہ نماز پڑھے اور اگر خون ایک درھم کی مقدار سے کم ہو ، البتہ لعاب دہن کے ساتھ مخلوط ہو کر منھ سے باہر آجائے ، اس صورت میں بھی نماز ، محل اشکال ہے ، یعنی نماز درست نہیں ہے ۔
سوال ۱۱۵۔ مانتو( زنانہ اوورکوٹ) کا پہنا کیسا ہے کیا اس کو بھی زینتی لباس میں شما رکیا جائے گا ؟
جواب : زینتی لباس پہنے میںاشکال ہے لیکن معمولی اوورکوٹ ( زنانہ ) زینتی نہیں ، اور ہر وہ لباس جو چہرے اور گٹے تک ہاتھوں کے علاوہ تمام بدن کو چھپالے ، کافی ہے ، اگر چہ چادر یا بر قعہ زیادہ محفوظ اور بہتر ہے
سوال ۱۱۶۔ ایسے لباس میں جس کے نجس ہونے میں شک ہے ، نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب : جب تک لباس کے نجس ہونے کا یقین نہ ہو اس وقت تک اس لباس میں نماز پڑھ سکتے ہیں ۔
سوال ۱۱۷۔ مردوں کے لئے زرد اور سفید سونا نیزپلاٹینم کے استعمال کا حکم بیان فرمائیں ؟
جواب : جس مادہ کو سونا کہا جاتا ہے خواہ زرد ہو یا سفید یا سرخ بہر حال مردوں کے لئے استعمال کرنا حرام ہے ، لیکن ملحوظ خاطر رہے کہ پلاٹینم سونا نہیں ہے بلکہ دوسری دھات ہے ۔
سوال ۱۱۸۔ کیا پلاٹینم ہی سفید سونا ہے ؟ اگر سونا نہیں تو اس کا حکم کیاہے ؟
جواب ( باخبر لوگوں کی گواہی کے مطابق ) پلاٹینم اور سفید سونا دوالگ الگ چیزیں ہیں پلاٹینم ایک الگ دھات ہے اور سفید سونا دوسری دھات ہے ، دوسری ( سفید سونا) حرام ہے لیکن پہلی دھات ( پلاٹینم ) حرام نہیں ہے ، گرچہ بعض لوگ توجہ کئے بغیر پلاٹین ہی کو ، سفید سونا کہتے ہیں ۔
سوال ۱۱۹۔ سیاہ لباس میں نما ز پڑھنامکروہ ہے کیا یہ حکم خواتین کے کالے برقعہ اور سیاہ عباء کو بھی شامل ہے ؟
جواب : مشہور و معروف ہے کہ نماز میں سیاہ لباس مکروہ ہے ، جو دلیل اس حکم کے لئے بیان ہوئی ہے ، عورت اور مرد دونوں کو شامل ہے لیکن عبا اس دلیل سے مستثنیٰ ہے ( یعنی عبا ء کے لئے یہ حکم نہیں ہے ) اور بعید نہیں خواتین کے سیاہ برقعہ بھی اس حکم سے جد اہو۔
سوال ۱۲۰۔ اگر کوئی خاتون نماز کے دوران یانماز کے بعد ،متوجہ ہوجائے کہ اس کے بدن کا کچھ حصہ ، جس کا چھپانا واجب ہے ، کھلا ہو اتھا ، اس کا وظیفہ کیا ہے ؟
جواب : اس کی نماز صحیح ہے ۔
سوال ۱۲۱۔ مردوںکے لئے سونے کے زیورات جیسے، سونے کی انگوٹھی یا گلو بند لاکٹ وغیرہ کا پہنّا کیسا ہے ؟
جواب : حرام ہے ۔
سوال ۱۲۲۔ کیا کسی نا محرم خاتون کے چہرے یاہاتھوں کو لذت کے بغیر دیکھنے میں کوئی حرج ہے ؟ نیز قصد ریبہ اور لذت سے مراد کیا ہے ؟
جواب : کوئی حرج نہیں ہے ، قصد ریبہ سے مراد یہ ہے کہ گناہ میںپڑنے کا خوف ہو نیز لذت سے مراد جنسی لذّت ہے ۔
سوال : ۱۲۳۔ لباس شہرت کیاہے اور اس کا استعمال کرنا کیسا ہے ؟
جواب : لباس شہرت یعنی محض دکھا وے کے لئے ایسا لباس پہنا کہ جس سے زاہد اور مقدس ہونا ظاہر ہو ، یعنی لوگوں کے درمیان زاہد و مقدس ، مشہور ہونے کے لئے ایسا لباس پہنے ، اور اس طرح کے لباس پہنے میں شرعاً اشکال ہے ۔
سوال ۱۲۴۔ اگر نما زکے دوران ، نمازی کی جیب میں ، چوری کی کوئی چیز موجود ہو ، توکیا اس کی نماز باطل ہے ؟
جواب: اس کی نماز میں کوئی اشکال نہیں ہے ۔
سوال ۱۲۵۔ بعض زخمی لوگوں کے زخم کی کیفیت ، کچھ اس طرح ہے کہ دن رات ، ان کے زخموں سے خون بہتارہتاہے ، یہ لوگ نماز کے لئے کیا کریں ؟
جواب : حتی الامکان ، زخموں پر پٹی باندلیں تاکہ خون دوسری جگہ سرایت نہ کرے ، اور اسی حالت میں نماز ادا کریں ۔
سوال ۱۲۶۔ ایسا بیمار آدمی جو کسی وجہ سے پیشاب کے بعد طہارت کرنے پر قادر نہیں ہے اگر کپڑے سے صاف کرلے تو کیا نماز پڑھ سکتا ہے ؟
جواب : سوال میں حالت اضطرار اور ضرورت کو فرض کیا گیا ہے ، لہٰذا اس صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۲۷۔ جس شخص کا غیر ارادی طور پر ، پیشاب ، پائخانہ ، خارج ہوجاتاہو ، چونکہ ہر وقت پیشاب پائیخانہ آنا ممکن ہے اور اکثر اوقات اس کا لباس اور دونوں مقام نجس رہتے ہیں، یہاں تک کہ اگر لباس بدلے تو بھی دوبارہ نجس ہوجاتا ہے ، یہ شخص کیسے نماز پڑھے؟
جواب : اسی حالت میں نماز پڑھے ، اور وضوء کرنے میں اس دستور کے مطابق عمل کرے جو توضیح المسائل کے مسئلہ ۳۲۹، میں بیان کیا گیا ہے ۔
سوال ۱۲۸۔ عورت کا اپنے چہرے اور ہاتھوں کو نہ چھپانا ، اگر معاشرہ میں عورت کے لئے فساد اور مشکلات کا باعث ہو تو کیا چہرے اور ہاتھوں کو چھپانا واجب ہے ؟
جواب : اگر فساد و مشکلات کا باعث ہے تو واجب ہے ۔
سوال ۱۲۹۔ مصنوعی دانت اگر حرام گوشت جانور کے اجزاء سے بنے ہوئے ہوں ، کیا اس صورت میں نماز میں اشکال ہے؟
جواب : کوئی اشکال نہیں ہے ۔
سوال ۱۳۰۔ کیا خواتین کے لئے حالت نماز میں اپنے بدن کو ایسے چھپانا ضروری ہے کہ کسی طرف سے بھی دکھائی نہ دے ؟ نیز کیا ایسی جگہ پر بھی جہاں کوئی نامحرم نہیںہے ، خواتین کے لئے اپنے ہاتھوں اور چہرے کے زیورات کو چھپانا واجب ہے ؟
جواب: نماز کی حالت میں ہاتھ اور چہرے کو چھوڑ کر تمام بدن کا چھپانا واجب ہے کہ کسی طرف سے بھی بدن دکھا ئی نہ دے اور اگر زیورات لباس کے اوپر ہیں تو نماز میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۳۱۔ اگر کسی جگہ پر کوئی نامحرم لذت اور گناہ کے ارادے سے کسی عورت کو دیکھے ، یا عورت کے چہرے اور ہاتھوں پر زینت ہو اور اس کو چھپائے بغیر نماز پڑھ رہی ہو ، اس کی نماز کا کیا حکم ہے ؟
جواب : نما زمیں کوئی اشکال نہیں ہے ، لیکن احتیاط واجب یہ ہے کہ ( اس حالت میں ) نامحرم کے سامنے نہ آئے ۔
سوال ۔ ۱۳۲۔ یہ فرمایا گیاہے کہ عورت کے لئے مرد کا مخصوص لباس او رمردوں کے لئے مخصوص زنانہ لباس ،پہنّا ، محل اشکال ہے ، اس سے کس قسم کا لباس مراد ہے برائے مہر بانی وضاحت فرمائیے؟
جواب : وہ لباس مراد ہے جسے عام لوگ زنانہ لباس کہتے ہیں ( لیکن اگرگناہ کا باعث نہیں ہے تو حرام نہیں ہے )
سوال ۱۳۳۔ امام حسین علیہ السلام اور دیگر ائمہ علیہم السلام کی عزاداری میں ، سیاہ لباس پہنا جیساکہ صاحب حدائق نے فرمایاہے ، شریعت کی رو سے بہتر ہے، یانہیں ؟
جواب : اگر یہ شعائر اللہ کی تعظیم کے عنوان سے ہوتو بہتر ہے ۔
سوال ۱۳۴۔ چونکہ پردہ کا مسئلہ اسلام کا ایک ضروری حکم ہے ، نیز اسلامی جمہوری ملک ایران خصوصاً اس کے مذہبی شہروں جیسے مقدس شہر قم میں ، اسلامی قانون کی زیادہ پابندی اور رعایت ہونا چاہئیے ، کہ بحمد للہ ابھی تک مقدس شہر قم میں اسلامی قانون کی رعایت ہوتی ہے ، لیکن افسوس کی بات ہے کہ آج کل اس مقدس شہر میں ،کچھ اس طرح کے اعمال ، مشاہدہ میں آتے ہیں ، جو اس مقدس شہر کی شان و منزلت ، کے مناسب نہیں ہیں ، جیساکہ با رہا دیکھاگیاہے ، خصوصاًشادی بارات کی ان گاڑیوں میں جو حضرت معصومہ سلام اللہ علیہما کے روضہ کے سامنے سے گذرتی ہیں ، غیر مناسب اعمال انجام دئے جاتے ہیں، یاکلی طور پر مقدس مقامات پر انہی مقامات میں سے ایک مقام مسجد جمکران بھی ہے، جس پر پر وردگار عالم اور حضرت امام زمان (عج)کی خاص توجہات اور عنایات ہیں ، مذکورہ اعمال انجام پاتے ہیں جو نہایت ہی افسوس کی بات ہے ، چونکہ اس مقدس شہر کی شان اس سے بلند و بالا ہے کہ اس طرح کے اعمال انجام دئے جائیں لہٰذا چونکہ عظیم الشان ، مراجع اور مجتہدین کرام ، ہمیشہ اور ہر حال میں اسلام و انقلاب کے ، مدد گار رہیں ہیں، اور اپنے فتووں کے ذریعہ ، دنیا کی ظالم و جابر اور متکبر حکومتوں کو ، منھ توڑ کر جواب دیتے رہے ہیں ، اس لئے ہم نے چاہا کہ اس مسئلہ میں ، مقدس شہر قم کے سلسلہ میں ، جناب عالی کا صریح اور واضح فتوی ، معلوم کریں -؟
جواب : کسی شک و شبہ کے بغیرپردہ دین اسلام کا مسلم حکم ہے ، اس کے بارے میں تمام مجتہدین کا نظریہ متفق ہے ، اور ہر قسم کی بے پر دگی مقدس شریعت کے خلاف ہے ، خصوصاً مذہبی شہروں میں ، اور اس سے بڑھکر مقدس مقامات پر زیادہ پابندی ہونی چاہئیے، ان مقامات پر بے پردگی کا گناہ دوسرے مقامات کی نسبت زیادہ ہے بیشک ہر جگہ خصوصا ایسے مقدس مقامات پر برقعہ پہنا زیادہ بہتر ہے ۔
سوال ۱۳۵۔ جن لوگوں کا آپریشن کے ذریعہ پائیخانہ کا مقام بند کردیا گیا ہے ۔اور ایک تھیلی میں ان کی غلاظت جمع ہوتی رہتی ہے ، نماز کے وقت انکا وظیفہ کیاہے ؟
جواب : اگروہ تھیلی ساتھ میں لگی ہے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر بدن نجاست سے آلودہ ہوجاتا ہے تو اس صورت میں اگر اس کے لئے عسر و حرج یعنی مشقت کا باعث نہ ہو تو بدن کو پاک کرے اور اگر مشقت کا باعث ہے تو اسی حالت میں نماز پڑھ لے ۔
سوال ۱۳۶۔ ان سونے کے تمغوں کا جنھیں ورزش کرنے والے حضرات ، انعام کے طور پر حاصل کرتے ہیں اور انہیں پہنائے جاتے ہیں ، کیا حکم ہے ؟
جواب: تمغہ حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، لیکن مردوں کے لئے اسے گلے میں ڈالنے میں اشکال ہے ، البتہ اگرضروری ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۳۷۔ دین اسلام کی رو سے پردہ کیا ہے ؟ اور عورت و مرد کے لئے کس قسم کے چھپانے کو پردہ کہتے ہیں ؟ کیا مصنوعی بال جو بعض خواتین اپنے سروں پرلگاتی ہیں وہ بھی اصلی بالوں میں شمار ہونگے ؟
جواب: خواتین کے بارے میں چہرے اور گٹے تک ہاتھوں کو چھوڑ کر تمام بدن کو چھپانا پر دہ ہے ، لیکن پردے کی بعض قسمیں جو ظاہرمیں زینت ، شمار ہوتی ہیں جیسے سر کو مصنوعی بالوں چھپالینا یہ پردے کے لئے کافی نہیں ہے ، اسی طرح ایسے لباس کے ذریعہ پردہ کرنا جو زینت میں شمار ہو، کافی نہیں ہے ، اور مردوں کے لئے ، بدن کے کچھ حصے کو چھپانا ، پردہ ہے ، جن حصوں کا مسلمان مردوں کے درمیان چھپانا رائج ہے ، لہٰذا سر ،ہاتھ ، بازووٴں کا کچھ حصہ ( چھوٹی آستین والے لباس میں) وغیرہ کو چھپانا ،مردوں پر واجب نہیں ہے ۔
سوال ۱۳۸۔ کیا گھر کے اندر مر دکے لئے زنانہ چپلیں اور عورت کے لئے مردانہ چپلیں پہنے میں کوئی اشکال ہے ؟
جواب: کوئی حرج نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کے مخصوص لباس پہنے میں اگر کوئی قباحت نہ ہوتو پہن سکتے ہیں لیکن اگر گناہ کا باعث ہو تو حرام ہے ۔
سوال ۱۳۹۔ کیا حالت نماز یا وعظ و نصیحت ( مجلس و غیرہ )کرتے وقت ، مردوں اور عورتوں کے درمیان ، پردے یا دیواروں کا ہونا ضروری ہے ؟
جواب: پردہ ہونا بہتر ہے واجب نہیں ہے ، لیکن اس شرط کے ساتھ کہ اسلامی قانون کی رعایت کی گئی ہو۔
سوال ۱۴۰۔ کیا وقت گذرنے سے ، غصبی زمین کا حکم بدل جاتا ہے ؟
جواب: غصبی زمین پر نماز پڑھنا ، یقیناحرام ہے ، زمانہ گذرنے سے اس کا حکم نہیں بدلتا ۔
سوال ۱۴۱۔ ان حکومتی عمارتوں، اداروں ، اور جگہوں پر جو کرایہ پر لیے گئے ہیں اور مالک ، خالی کرانے پر مصر ہے نیز، راضی نہیں ہے اور اس بات کا اظہار بھی کر چکا ہے ، جبکہ مجبوری کی بناپر عمارت ابھی حکومت کے اختیار میں ہے ،اس صورت میں وہاں پر نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب: یقینی ضرورت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۴۲۔کیا اُس فرش (قالین ) پر جس کا کچھ حصہ حرام مال سے رفو کیا گیا ہے نماز پڑھی جاسکتی ہے یا فقط اسی رفو شدہ حصہ پر نماز پڑھنے میں اشکال ہے ؟
جواب : اسی مخصوص ( رفو شدہ ) حصہ پر نماز پڑھنے میں اشکال ہے ۔
سوال ۱۴۳۔ یونیورسٹی اور کالجوںمیں معمولاً نماز کے لئے ایک جگہ مخصوص کی جاتی ہے کیا اس جگہ پر نماز پڑھنے کی و جہ سے ، اسٹوڈینٹس اور طالب علم پر کچھ رقم فقیروں کو دینا واجب ہے اس لئے کہ ان جگہوں کے مالک کا پتہ نہیں ہے اور کیا یہی بات تدریس پر بھی صادق آتی ہے ؟
جواب : اگر وہ جگہ جو نماز کے لئے مخصوص کی گئی ہے ، حکومت کے اختیار میں ہے اور اس کی وضیعت و کیفیت آپ کے لئے روشن ہے ، تو اس صورت میں ذمہ دار حضرات کی اجازت سے ،وہاں پر آپ کے نماز پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے فقیروں کو کوئی رقم دینا آپ پر لازم نہیں ہے اور اگر واقعاً وہ جگہ مجہول المالک ہو یعنی اس کے مالک کا پتہ نہ ہو اور مالک کے پتہ چلنے کا کوئی راستہ بھی نہ ہوتو اس صورت میں وہاں پر نماز پڑھ سکتے ہیں لیکن اس کے عوض کچھ رقم فقیروں کے دیدیں ۔
سوال ۱۴۴۔ ایک شخص نے انقلاب آنے سے پہلے شاہ کی حکومت کے دوران پانچ تومان میں لاٹری کا ایک ٹکٹ خریدا ، جس کے ذریعہ ا سکو ایک لاکھ تومان حاصل ہوا اس رقم سے اس نے مکان بنایا، کیااس مکان میں نماز پڑھنا جائز ہے ؟
جواب : اسے چاہےئے کہ اس مکان کا مجہول المالک ( یعنی جس کے مالک کا پتہ نہ ہو) کے عنوان سے ، حاکم شرع کی اجازت سے ، صدقہ دے اور اگر خود ہی مستحق ہو تو حاکم شرع کی اجازت سے اس مکان میں تصرف کرسکتا ہے ۔


مسجد کے احکام
سوال ۱۴۵۔ کیا مسجد بنانے میں پڑوسیوں کی رضا ( اجازت) شرط ہے ؟
جواب: پڑوسیوں کا راضی ہونا شرط نہیں ہے ، لیکن ان کے لئے زحمت ایجاد نہیں ہونا چاہئیے ، مثال کے طور پر مسجد کے لاوٴڈاسپیکر ، یامسجد کے آس پاس گاڑیوں کی پارکنگ کے ذریعہ پڑوسیوں کو زحمت نہیں دینا چاہئیے ۔
سوال ۱۴۶۔ ضلع لارستان کے شرقویہ نامی گاوٴں میں ، قدیم زمانے کے تعمیرہ شدہ حمّام تھے ، جو بیس سال سے استعمال نہیں ہورہے تھے ، ایک موٴمن شخص نے انہیں گرادیا جواب زمین کی شکل میں موجود ہےں ، چونکہ یہ جگہ مذکورہ گاوٴں کی جامع مسجد کے نزدیک ہے اگر اجازت دیں تو اس زمین کے کچھ حصہ پر مسجد کے بیت الخلاء اور وضو خانہ بنادیاجائے اور باقی حصہ کو لوگوں کی آمد و رفت کے لئے راستہ بنا دیا جائے ؟
جواب :اگر حماموں کی دوبارہ تعمیر کی کوئی امید نہ ہو نیز اس آبادی میں دوسرے حماموں کی ضرورت بھی نہ ہو کہ اس زمین کو بیچ کر دوسری جگہ بنا دئے جائیں تو اس صورت میں جیسا کہ آپ نے تحریرکیا ہے ، اس کے مطابق عمل کرسکتے ہیں ۔
سوال ۱۴۷۔ جو مسجد ، نجس مصالحہ سے بنائی گئی ہے ، کیا اس کے ظاہر ی حصہ کو پاک کردینا ، کافی ہے ۔
جواب: کافی ہے اور مومنین کے دلوں میں وسوسہ نہ ڈالیں ۔
سوال ۱۴۸۔ کیاسید الشہداء کی عزاداری کے لئے وقف شدہ زمین پر مسجد بنائی جاسکتی ہے ۔
جواب : اگر ممکن ہو تو متولی سے ، اور متولی نہ ہونے کی صورت میں ، حاکم شرع سے ، اس زمین کو مسجد بنانے کے لئے کرایہ پر لے لےں نیز کچھ مقامی اور قابل اعتماد حضرات اس کرایہ نامہ پر دستخظ کردیں ، تاکہ بھلائی نہ جاسکے، اور ہر سال کرایہ کی رقم ، سید الشہداء ﷼ کی عزاداری میں خرچ کی جائے ، کرایہ کی مدت بھی معین کی جائے تاکہ مدت ختم ہونے کے بعد دوبارہ کرایہ وغیرہ طے ہو سکے۔
سوال ۱۴۹۔ کیا مسجد کے غیر ضروری سامان کو بیچ کر ، اس کی رقم کو مسجد میں خرچ کیا جاسکتاہے ؟
جواب : اگر اس سامان کی ضرورت نہیں رہی ہے تو اس کو بیچ دیں اور اسی مسجد میں خرچ کریں ، اس لئے کہ مذکورہ سامان کو مسجد میں وقف یاعطیہ دینے والے شخص کی رائے سے زیادہ قریب یہی ہے کہ اسی مسجد میں خرچ کیا جائے ،لیکن اگر اس مسجد میں ضرورت نہ ہو تو دیگر تمام مساجد میں خرچ کیا جاسکتاہے ۔
سوال ۱۵۰۔ اگر بینک سے قرض لیکر مسجد بنا نے کے لئے زمین خریدی گئی ہو، اور قرض کی قسطیں جمع نہ کی گئی ہوں ، کیا اپنی رقم واپس لینے کے لئے بینک اس زمین میں تصرف کر سکتا ہے ؟
جواب: زمین کو اپنے ملکیت میں لینے کا بینک کو حق نہیں ہے ،بینک کو فقط اپنے قرض کی واپسی کا مطالبہ کرنے کا حق ہے ہاں اگر قرض لیتے وقت یہ شرط ہوئی تھی کہ اگر قسطیں جمع نہ کی گئیں ، تو زمین بینک کے اختیار میں دینا ہو گی ( تو زمین میںبینک کو تصرف کرنے کاحق ہے ) البتہ توجہ رہے کہ قرض ، شرعی عقد کے مطابق لیا جائے نہ کہ سود والا قرض۔
سوال ۱۵۱۔ کیا مسجدوں میں ( جائز ) فلم ،دکھانا جائز ہے ؟
جواب: یہ کام مسجد کی شان کے مناسب نہیں ہے ، بلکہ اس کام کے لئے دوسری جگہ کو نظر میں رکھا جائے ۔
سوال ۱۵۲۔کیا متروکہ گاؤں کی مسجد کو گرانا جائز ہے ؟
جواب:مسجد کو گرانا جائز نہیں ہے ،لیکن اگر خود بخود گر جائے تو اس کے سامان کو اس گاؤں کی دوسری مسجد یا دوسرے گاؤں کی مسجد میں منتقل کیا جا سکتا ہے ۔
سوال ۱۵۳۔مسجد میں مجلس یا فاتحہ خوانی کے سلسلے جو رقم دی جاتی ہے اسے کس مصرف میں استعمال کیا جائے ؟کیا مسجد کے خادم کا بھی اس میں کوئی حق ہے ؟
جواب : مجلس یا فاتحہ خوانی کے سلسلے میں دی گئی رقم کو ،متولی یا امام جماعت (جوبھی اس کام پر مامور ہو )کی زیر نگرانی ،مسجد کے فائدہ کے لئے خرچ کیا جائے خادم ان کی زیر نگرانی ،جس قدر عام طور پر معمول ہے خرچ کر سکتا ہے ،لیکن توجہ رہے کہ مسجد کو استعمال (مجلس وغیرہ کے لئے )کرنے کے عوض کوئی رقم نہیں لی جاسکتی ِالبتہ اگر کوئی اپنی مرضی سے دیدے یا جو انکے کام انجام دئے گئے ہیں ،اس کے عوض کوئی رقم دیدیں تو لی جاسکتی ہے ۔
سوال ۱۵۴ ۔جو مسجد یں سڑکوں پر واقع ہےں ، یا بیابانوں اور متروکہ گاؤں دیہاتوں میںبنی ہوئی ہیں اور کسی طرح بھی نماز پڑھنے کے قابل نہیں ہےں ،اور کبھی تو نجس جانور اور نجاست کا مرکز بن جاتی ہےں ،ان مسجدوں کا حکم کیا ہے ؟
جواب : وہ مسجدیں جو سڑکوں پر متروکہ پڑی ہیں اور دوبارہ آباد ہونے کی امید بھی نہیں ہے ، ان میں مسجد ہونے اور وقف ہونے کا حکم زائل ہوجاتا ہے ،اور جس شخص نے ایسا کیا ہے اسے چاہیئے کہ اس مسجد کی قیمت کے برابر رقم دوسری مسجد بنانے یا دیگر تمام مسجدوں کی تعمیر میں خرچ کرے حقیقت میں یہ عین مال کو تلف کرنا ہے ،لیکن جب تک کوئی شدید ضرورت نہ آن پڑے ، مسجد کو گرانا کسی صورت میں بھی جائز نہیں ہے اور وہ مسجدیں جوبیابانو ں میں متروکہ ہیں یا گاؤں و دیہاتوںمیں متروکہ پڑی ہوئی ہیں (یعنی ان میں کوئی نماز پڑھنے والا نہیں ہے )ان کو اس طرح محفوظ رکھنا چاہئے کہ ان کی بے حرمتی نہ ہو۔
سوال ۱۵۵۔ کیا کافروں کو مسجدوں میں داخل ہونے سے روکنا لازم و ضروری ہے ؟
جواب : احتیاط واجب یہ ہے کہ کافروں کو مسجد میں داخل ہونے سے روکا جائے مگر جبکہ اسلام میں تحقیق یا اسی طرح کے دوسرے کام سے داخل ہونا چاہیں ۔
سوال ۱۵۶ ۔ کیا کسی کو کوئی چیز ہبہ کرنا یا بخش دینا، اس طرح کے کام مسجد میں جائز ہیں ؟اگر جائز ہوں توکیا حاکم شرع سے اجازت لینا ضروری ہے ؟
جواب :اس طرح کے کام مسجد میں انجام دینا ،حرام نہیں ہے اور حاکم شرع سے اجازت لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے ،البتہ دنیاوی کاموں کو مسجد میں انجام دینا مکروہ ہے اور اگر یہ کام نماز پڑھنے والوں کے لئے اذیت کا باعث ہو تو حرام ہے ۔
سوال ۱۵۷ ۔ ایک تین منزلہ مسجد ہے ، اور مسجد کی تیسری منزل رمضان المبارک یا اسی طرح کے دوسرے موقعوں کے علاوہ، نماز کے لئے زیادہ استعمال نہیں ہوتی ہے ،اس صورت میں ،کیا مسجد کی تیسری منزل کو جدا
جدا حصے کرکے ،ہر ایک حصہ کو تعلیمی غرض سے، مثال کے طور پر ایک حصہ کو دارالقرآن کے لئے ،دوسرے کو طلاب کے لئے تحقیقاتی و مطالعاتی مرکز کے طور پر مخصوص کر سکتے ہیں یا نہیں؟
جواب :اگر ایسے سامان کے ذریعہ جداکیا جائے جو نماز کےلئے ضرورت پڑنے پر ایک طرف ہٹایا جاسکے اور دینی کام مقصود ہو تو کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال ۔۱۵۸ قدیم زمانے کا رواج تھا کہ خواتین اور مردوں کے حصے کے درمیان پردہ حائل ہوتاتھا اب کچھ لوگ کہتے ہیں کہ حالت نماز میں یا وعظ و نصیحت کے وقت خواتین اور مردوں کے درمیان پردہ اور دیوار کا ہوناضروری نہیں ہے آپ کا نظریہ کیا ہے ؟
جواب : اگر خواتین کی صفیں ، مردوں کے پیچھے ہوں تو تو پردہ ضروری نہیں ہے لیکن اگر برابر میںہوں تو احتیاط واجب یہ ہے کہ پردہ نصب ہونا چاہئے ۔
سوال ۱۵۹ ۔کیا اسلامی باتیں سننے کے لئے مسجد میں کافروں کے داخل ہونے میں کوئی اشکال ہے ؟
جواب : اگر واقعااسلام کی تحقیق کے لئے آناچاہیں تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
َسوال ۱۶۰۔ مسجد کے پروگرام امام باڑے میںاور امام باڑے کے پروگرام مسجد میں کیوں نہیں انجام دئے جاسکتے ؟چونکہ جائز ہونے کی صورت میں ہم دونوں میںسے ایک کو بنا لیں تاکہ زمین اور خرچ کے سلسلے میں اسراف سے بچاجا سکے ؟
جواب : مسجد میں خواتین اور کبھی مردوں کے لئے محدودیت پائی جاتی ہے ،امام باڑے میں زیادہ آزادی ہے ،البتہ مسجد میں نماز پڑھنے اور امام بارگاہ میں نماز پڑھنے میں بہت زیادہ فرق ہے ،یہی وجہ ہے کہ دونوں عمارتیں جدا جدا بنائی جاتی ہیں ۔
سوال ۱۶۱:وہ مسجدیں جن میں قبلہ کی جانب شبستان نہیں ہے ان میں قبلہ کی جانب شبستان بنانے کی کیا صورت ہے ؟
جواب ۔ضرورت کی صورت میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۶۲۔ اگر کوئی زمین مسجد سے چند میٹر بلند ہو اور اسکے نیچے سرداب بھی نہ ہو تو کیا اس صورت میں مسجد کے نیچے دکان بنواکر اسے پگڑی پر دے دیا جائے اور پگڑی کی رقم مسجد میں خرچ کر دی جائے ؟
جواب :جائز نہیں ہے لیکن اگر مسجد وقف کرنے والا ایسا کر دیتا تو جائز تھا البتہ اگر یہ کام مسجد کے (کتابخانے )لائبریری وغیرہ کے لئے انجام دیا جائے تو کو ئی حرج نہیں ہے (یعنی اس میں لائبریری وغیرہ بنائی جاسکتی ہے )
سوال ۱۶۳۔ اگر مسجد میں فرش (قالین چٹائی وغیرہ)یا دیگر سامان ،اضافی ہوں کیا مسجد میں ضرورت نہ ہو نے کی صورت میں دوسرے مستحق کو وہ اضافی قالین وغیرہ دے دیا جائے ؟
جواب : جائز نہیں ہے لیکن اس کو فروخت کر کے ،مسجد کی ا سی ضرورت کے مثل دوسری ضرورتوں میں خرچ کیا جاسکتا ہے ۔
سوال ۶۴ ۱۔ اگر دو مسجدیں ایک دوسرے کی برابر میں بنائی گئی ہوں ایک گرمیوں کی ہو اور دوسری سردی کے موسم کے لئے، سردی کے موسم کی مسجد چھوٹی ہو نے کی وجہ سے ضروری موقعوں مثال کے طور پر محرم کے مواقع پر لوگوں کی ضروررت کو پورا نہیں کر پاتی کیا اس صورت میں درمیانی دیوار پیچھے ہٹاکر گرمی کے موسم کی مسجد کو سردی کے موسم کی مسجد میں ملایا جاسکتا ہے ؟
جواب: ایسا کرنے میں اشکال ہے ،لیکن ایک مسجد سے دوسری مسجد میں دروازہ کھول سکتے ہیں ۔
سوال ۱۶۵۔ اگر مسجد کا ایک دروازہ ہو جس سے لوگ آتے جاتے ہوں اور بعض موقعوں پر جیسے محرم کے مہینہ میں خواتین بھی مسجد جاتی ہیں دوسرے دروازے کی ضرورت ہو تو کیا مسجد کے ایک طرف دوسرا دروازہ بنایا جا سکتا ہے ،تاکہ ضروری موقعوں پر استعمال کیاجا سکے اور ضرورت ختم ہونے کے بعددوبارہ پہلے دروازے سے رفت و آمد کی جاسکے ؟
جواب :کوئی حرج نہیں ہے ،
سوال ۱۶۶۔اگر مسجد سے متعلق باورچی خانہ چھوٹا ہو اور چائے پلانے کے لئے مزید ضرورت ہوتوکیا چائے پلانے کی مخصوص جگہ باورچی خانے کو کشادہ کیاجاسکتا ہے ؟
جواب :اگر نمازیوں کے لئے باعث زحمت نہ ہو نیز اس کے لئے جگہ تنگ نہ ہو اور مسجد کے لئے ضروری بھی ہو تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۶۷۔ ایک مالدار شخص نے تقریبا ۱۵ سال پہلے ایک مسجد تعمیر کرائی اس وقت اس مسجد کی تعمیر مکمل ہو چکی ہے مسجد کے کچھ حصہ میں رضاکاروں کا دفتر ہے بانی مسجد راضی نہیں ہے حالانکہ اس مقام پر امن و امان قائم کرنے کے لئے رضاکاروں کا ہونا بہت ضروری ہے اوررضاکار امن قائم کرنے کے لئے کافی زحمت کرتے ہیں کیا اس صورت میں مذکورہ مسجد میں نماز پڑھنا یا دیگر فعالیتیںجو انجام دی جاتی ہیں صحیح ہےں؟۔
جواب : اگر وہ لوگ اسلام کے مثبت ثقافتی امور انجام دیتے ہیں اور نمازیوں کے لئے زحمت کا باعث بھی نہیں ہے تو جائز ہے، بانی مسجد کی رضایت بھی ضروری نہیں ہے ۔
سوال ۱۶۸۔تہران کی مسجدوں میں جو مجالس تحریم ہوتی ہیں اس میں خواتین بھی شرکت کرتی ہیں بعض خواتین حالت حیض میں ہوتی ہیں اور مسئلہ نہ جاننے کی وجہ سے اسی حالت میں مسجد میں چلی جاتی ہیں مجلس کے ختم ہونے کے بعد کبھی کبھی مشاہدہ کیا جاتا ہے کہ مسجد کا فرش (قالین وغیرہ )نجس ہو گیا ہے اس سلسلے میں آپ اپنا نظریہ تحریرفرمائیں ؟
جواب :خواتین کے لئے حالت حیض میں مسجد میںٹہرنا حرام ہے اور اگر مسجد کا فرش خون سے آلودہ ہوجائے تو پاک کرنا واجب ہے اور جاہل و نادان اشخاص کو ان مسائل سے آشنا کرنا ضروری ہے ۔
سوال ۱۶۹۔مسجد کے برابر میں دوسری منزل پر ایک عمارت ان خواتین کے لئے تعمیر کی گئی ہے جو خواتین مسجد میں داخل ہونے سے معذور ہیں اس عمارت کو فاطمیہ کا نام دیا گیا ہے لیکن اس پر وقف کا صیغہ جاری نہیں ہوا ہے ،البتہ عمارت کو اس پیسے سے جو لو گوں سے جمع کیاگیا ہے بنایا گیا ہے ،اور اب ایک اور مزید اور بڑی عمارت امام باڑے کے نام سے مسجد کے پہلو میں تعمیر ہوئی ہے چونکہ مسجد کا خادم جس کے اہل و عیال پانچ افراد پر مشتمل ہیں اور جگہ تنگ ہونے کی وجہ سے سختی میں ہے کیا آپ اجازت دیتے ہیں کہ پہلی عمارت (فاطمیہ )کو خادم سے مخصوص کر دیاجائے ؟
جواب :جائز نہیں ہے ،اس کے لئے دوسری جگہ نظر میں رکھی جائے وہ جگہ (فاطمیہ )وقف کے حکم میں ہے ۔
سوال ۱۷۰۔ شہر کرج کے حیدرآباد نامی مقام پر ایک زمین مسجد کے لئے وقف کی گئی تھی لوگوں نے مسجد بنانے کی نیت سے مدد کی پہلے اس مسجد کے سرداب میں نماز ہوتی تھی اب سرداب کے اوپر مسجد بن گئی ہے اور سرداب میں مسجد کا سامان رکھاجاتا ہے نیز اسی سرداب میں محرم اور سفر کے مہینوں میں امام حسین﷼ کے عزاداروں کو کھانا کھلایا جاتا ہے معذور حضرات اس میں داخل نہیں ہو سکتے کیا اس سرداب میں جوانوں اور نوجوانوں کے ورزش کرنے کے لئے ورزشگاہ بنائی جاسکتی ہے اور اس کی درآمد کو مسجد میں خرچ کیا جا سکتا ہے ؟
جواب: جائز نہیں ہے بلکہ اس سرداب کو مسجد یا مسجد سے مناسب کاموں کے لئے استعمال کیا جا ئے ۔
سوال ۱۷۱۔ ایک ایسی زمین پر جو مقامی مسلمان اور عیسائیوں کی مشترک زمین ہے خود انھیں کی اجازت سے مسجد تعمیر کی گئی ہے اور اہل کتاب (عیسائی) اپنے مردوں کے ایصال ثواب کی رسومات مسلمانو ں کی مسجد میں انجام دیتے ہیں مسلمان مقرر اس جلسہ میں تقریر کرتا ہے خود عیسائی بھی جلسہ میں حاضر ہوتے ہیں اسی طرح مسجد میں جب مسلمانوں کی مجالس منعقد ہو تی ہیں تب بھی عیسائی شریک ہو تے ہیں کیا ان کا مسجد میں آنا مسجد کی بے حرمتی کا سبب نہیں ہے ؟
جواب : اگر انکا مسجد میں آنا اسلام سے زیادہ ر غبت و محبت کا سبب بنے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۱۷۲۔ اردکان نامی شہر کی مسجدوں میں قرآن کے کچھ خطی نسخے اوراسی طرح قرآن مجید کے بعض پاروں کے خطی نسخے موجود ہیں جن میں سے اکثر یا کچھ حصے خراب ہو گئے ہیں اور باقی بالکل ختم ہونے کو ہیں نیز چوری ہونے کا بھی امکان ہے کیا اس مسجد کی امانت کے عنوان سے ان قیمتی نسخوں کو شہر اردکان کے میوزیم میں محفوظ کیا جاسکتا ہے ؟
جواب : اگر مسجد میں استعمال کے قابل نہیں ہیں یا بالکل بوسیدہ اور ختم ہونے کی حالت میں ہیں تو ان کو بہتر میں تبدیل کیا جاسکتا ہے یعنی انھیں میوزیم یا غیر میوزیم کو بیچ کر ان کے بدلے نئے قرآن خرید لیں اور اسی مسجد میں وقف کردیں ۔





طبقه بندی: اسفتائات (طبق فتوی ایت الله العضمی مكارم شیرازی)، 
.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک
قالب وبلاگقالب وبلاگ