تبلیغات
بلتستانی ، baltstani - نماز جماعت
قالب وبلاگ قالب وبلاگ

بلتستانی ، baltstani
 

به وبلاگ من خوش آمدید
 
نوشته شده در تاریخ جمعه 12 آذر 1389 توسط irshad hussain
سوال ۲۴۱۔ کیا ایک نماز میں دو اماموں کی اقتداء کی جاسکتی ہے ۔
جواب:۔ضروری موقعوں کے علاوہ ایک نماز میں دو شخصوں کی اقتداء نہیں کی جاسکتی ۔
سوال ۲۴۲۔ جن لوگوں نے مسجد کی تیسری منزل پر( پہلی منزل کی ) جماعت کےساتھ نماز پڑھی ہے ، ان کی نما ز کا کیا حکم ہے َ
جواب:،۔ اگر وہ جماعت پہلی منزل پر منعقد جماعت کے ساتھ ایک ہی جماعت شما ر ہوتی ہے تو کوئی حرج نہیں ہے۔
سوال ۲۴۳۔ میں ایک مسجد کا امام جماعت ہوں ، برائے مہر بانی میرے لئے ایک اجازہ مرحمت فرمائیے ؟
جواب:۔ اگر مسجد میں جماعت کرانا آپ کی مرادہے تو اجازہ کی ضرورت نہیں ہے اور اگر کوئی دوسری چیز مقصود ہے تو تحریر کریں تاکہ جواب دیا جائے۔
سوال ۲۴۴۔ کیا ایک مرجع کا مقلِّد ، دوسرے مرجع کے مقلِّد کی امامت میں نماز پڑھ سکتا ہے ۔
جواب:۔ ہر مجتہد کا مقلِّد ہر مجتہد کے مقلِّدکی امامت میں نماز پڑھ سکتا ہے مگر یہ کہ اس کی نماز کے باطل ہونے کا علم ہو جائے ۔
سوال ۲۴۵۔ کیا مسجد و محراب کا اختیار امام راتب کو ہے؟ اس طرح کہ دوسرے شخص کے وہاں نماز پڑھانے میں اشکال ہویا یہ کہ امام راتب کا اولیٰ ہونا افضل ہونے کی وجہ سے ہے؟ مہر بانی فرماکر وضاحت کریں ۔
جواب:۔ امام راتب کے حق کی مراعات واجب نہیں بلکہ مستحب ہے البتہ اختلافات سے بچنے کے لئے بہتر ہے کہ اس طرح کے مسائل کی رعایت کی جائے ۔
سوال ۲۴۶۔ اگر کسی شخص کا ایک ہاتھ کٹ جائے ، کیا امام جماعت کے فرائض انجام دے سکتا ہے ؟
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۴۷۔ ایک عالم دین کسی شہر یا بستی میں آتاہے لیکن اہل بستی اسے نہیں جانتے کیا نماز میں اس عالم کی اقتداء کی جاسکتی ہے ؟
جواب:۔ اگر اس کے عادل ہونے کا اطمنان حاصل ہوجائے تواقتداء کے لئے یہی کافی ہے ۔
سوال ۲۴۸۔ کیا وسواسی امام جماعت مثال کے طور پر جو ایک لفظ کو کئی مرتبہ دہراتا ہے ، کی اقتداء کرنا جائز ہے ؟
جواب:۔ اشکال سے خالی نہیں ہے ، لیکن توجہ رہے کہ احتیاط کی مراعات کرتے ہوئے کسی لفظ کو ایک یا دوبار دہرانا ، وسواس ہونے کی دلیل نہیں ہے ۔
سوال ۲۴۹۔ کسی شخص نے دیکھا کہ ایک امام جماعت ، تشہد پڑھنے میں مصروف ہے اسے علم یاگمان ہوا کہ آخری رکعت کا تشہد ہے ،ثواب حاصل کرنے کی نیت سے تشہد میں شامل ہو کر ، امام جماعت کی اقتداء کرلی ، بعد میں معلوم ہوا کہ وہ پہلا تشہد ہے ۔ اس شخص کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب :۔ احتیاط یہ ہے کہ نماز کو امام جماعت کے ساتھ کامل ادا کرے اور بعد میں دوبارہ نماز پڑھے ۔
سوال ۲۵۰۔ امام جماعت ایسے مرجع کامقلد ہے جس کے نزدیک ، دوسری مسجد میں دوسری جماعت کے ساتھ نماز کو دوبارہ پڑھنا جائز ہے لیکن دوسری مسجد کے ماٴموم اس مرجع کے مقلد ہیں جس کے نزدیک جائز نہیں ہے ، کیا دوسری مسجد کے ماموم ، اس امام جماعت کی اقتداء کرسکتے ہیں ؟
جواب :۔ نہیں کرسکتے لیکن اگر انہیں معلوم نہیں تو ان کے سامنے اس مطلب کی وضاحت کرنا ، امام جماعت پرلازم نہیں ہے ۔
سوال ۲۵۱۔ کوئی امام جماعت دو جگہ پر نماز پڑھا تا ہے ، کیا وہ شخص جو ہمیشہ امام جماعت کے ساتھ رہتا ہے ، دونوں جگہ پر مذکورہ امام جماعت کی اقتدا کرسکتا ہے ؟
جواب:۔ ماٴ موم کی دوسری نماز میں اشکال ہے ، مگر جبکہ احتمال دے کہ پہلی نماز میں کوئی خلل واقع ہو اتھا ، یا اپنی قضا نماز یا کسی میت کی قضا نماز کی نیت کرلے ، تو صحیح ہے ۔
سوال ۔۲۵۲۔ کسی شخص نے نماز پڑھنے کی غرض سے مسجد میں جا نماز بچھائی اور اس کے بعد باہر چلا گیا ، جماعت شروع ہوگئی اور وہ شخص ابھی تک واپس نہیں آیا کیا اس صورت میں جماعت کے شروع ہوتے ہی ، اس شخص کااس جگہ سے حق ساقط ہوجائے گا ۔اور دوسرا شخص اس جگہ پر نماز پڑھ سکتا ہے ؟
جواب:۔ احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ پہلی رکعت کے رکوع تک ، اسے مہلت دے ، اگر نہ آئے تودوسرے شخص کو نماز پڑھنے کا حق ہے ؟
سوال ۔۲۵۳۔ امام جماعت کا کسی حادثہ کے نتیجہ میں ، ایک پیر ٹوٹ گیا ، جس کی وجہ سے ان کا پیر صحیح سے مڑتا نہیں ہے کہ تشہد ، سجود اور سلام پڑھتے وقت دو زانو ہوکر بیٹھ سکیں ، بلکہ سجدے اور تشہد میں ، پیر کو تھوڑا سیدھا رکھنا پڑتا ہے ، لیکن دوسرے شرائط ان میں موجود ہیں ، کیا اس حال میں وہ امامت کے فرائض انجام دے سکتے ہیں ؟
جواب : جائز ہے۔
سوال ۔۲۵۴۔ خوا تین کی جماعت میں عورت کی امامت کا کیا حکم ہے؟
جواب ۔ جا ئز ہے․
سوال ۔۲۵۵۔مسجد کا امام راتب عالم دین نہیں ( کوئی عام شخص ہے) اگر اتفاق سے کوئی عالم دین مسجد میں آجائے اور امام جماعت کے فرا ئض،انجام دینا چا ہے تو کیا غیر عالم امام راتب کی اجازت حاصل کرے؟آیا مو لانا کے ہو تے ہوئے کو ئی غیر مولوی امام جماعت ہو سکتا ہے یا نہیں؟
جواب:۔ اجازت لینا واجب نہیں ہے لیکن مومن کے اخلا ق سے بہت مناسب ہے،نیز جہا ں پر مولانا مو جود ہیں،غیر مولوی حضرات کی امامت اشکال سے خالی نہیں ہے۔
سوال ۔۲۵۶۔دوسری رکعت میں امام جماعت کے سورہ تو حید ( قل ھو اللہ احد) پڑھنے کے بعد، کیا ماموم کے لئے” کذا لک اللہ ربیّ“ کہنا جائز ہے؟
جواب ۔مطلق ذکر کی نیت سے کو ئی حرج نہیں ہے۔
سوال۔۲۵۷۔ ایک امام جماعت نے مسجد بنانے کے لئے کچھ رقم مامومین اور لوگوں سے جمع کی اور کچھ رقم سہم امام کی حاصل کی لیکن اس سلسلہ میں کوئی اقدام نہیں کیا جن لوگوں نے رقم دی تھی وہ اب رقم واپس مانگ رہے ہیں امام جماعت کہتے ہیں کہ تمہں رقم کی واپسی کے مطالبہ کا کوئی حق نہیں ہے میں حاکم شرح کی جانب سے وکیل ہوں اور مجھے معلوم ہے کہ کیا کرنا ہے کیا اس عالم دین کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہے ؟
جواب:۔ اگر مذکورہ رقم سہم امام علیہ السلام کے عنوان سے دی گئی ہے تو اس صورت میں مجتہد یا ان کے نمائندے کی رای کے مطابق اسے عمل کرنا چاہئیے اور اگر لوگوں نے عطیہ وغیرہ کے طور پر دی ہے تو اسے لوگوں کی رائے کا پاس و لحاظ رکھتے ہوئے اسے پورا کرنا چاہئیے ۔
سوال ۲۵۸۔ نما ز جماعت منعقد ہے ، یعنی جماعت ہو رہی ہے اس کے باوجود بعض لوگ وہیں پر فرادیٰ نما پڑھتے ہیں ، ان کی نماز کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ جب بھی امام جماعت کی بے حر متی ہوجائے تب ان کی نماز میں اشکال ہے ۔
سوال ۱۵۹۔ اگر کوئی امام جماعت نما زکے بعد سمجھ جائے کہ اس کی نماز باطل تھی ، کیا اس پرمامومین کواطلاع دینا لازم ہے تاکہ وہ لوگ دوبارہ اپنی نما ادا کرسکیں ؟
جواب:۔ لازم نہیں ہے ۔
سوا ل۲۶۰۔ کیا یومیہ نمازوں کی جماعت میں خواتین کا شرکت کرنا مکروہ ہے ؟
جواب:۔ موجودہ حالات میں ان کی شرکت بہتر اور بعض اوقات لازم ہے ۔
سوال ۲۶۱۔ جو شخص کھڑے ہوکر نما زپڑھتا ہے معمول کے مطابق رکوع کرتا ہے لیکن سجدے کے لئے کرسی پر بیٹھ کر میز ہر سجدہ گاپرکھ کر سجدہ کرتا ہے ، کیا ایسا شخص امام جماعت کے فرائض انجام دے سکتا ہے ؟
جواب:۔ احتیاط واجب کی بنابر امامت نہ کرے۔
سوال ۲۶۲۔ اگر کوئی شخص امام جماعت کی قراٴ ت کے بارے میں شک کرے کہ اس کے مرجع کے فتوے کے مطابق ہے یانہیں کیا اس صورت میں امام جماعت کی اقتداء کرسکتا ہے ؟
اور اگر اقتداء کرنا جائز ہے تو کیا احتیاط کے طور پر نماز دوبارہ پڑھنا لازم ہے ؟
جواب:۔ جب تک فتوے کے برخلاف ہو جانے کا یقین نہ ہو جا ئے اقتداء کرنا جائز ہے اور احتیاط کے طور پر دوبارہ نما زپڑھنا بھی لازم نہیں ہے ۔
سوال ۲۶۳۔ اگر شہر کی جامع مسجد میں جماعت ہو رہی ہو اور قلیل تعداد میں کچھ لوگ جماعت کے ہوتے وقت ، ضعیف اور کمزور کرنے کے ارادے سے ، فرادیٰ نما ز پڑھنے لگیں، ان کی نماز کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ ان کی نماز میں اشکال ہے ۔
سوال ۲۶۴۔ پہلی صف میں تین شخص جن کا لباس نجس ہے نماز پڑھ رہے ہیں کیا ان کی وجہ سے داہنی جانب نما ز پڑھنے والوں کا، جماعت سے اتصال ختم ہو جاتا ہے ؟
جواب:۔ جب تک کسی شخص کو یہ معلوم نہ ہو کہ اس کا لباس یا بدن نجس ہے اور نماز پڑھ لے تو اس کی نماز صحیح ہے ، اور جماعت کا اتصال بھی بر قرار رہتا ہے۔
سوال ۲۶۵۔ گاوٴں کے لوگوں نے مجھے نماز جماعت کے فرائض انجام دینے کی پیش کش کی تاکہ عالم دین نہ ہونے کی صورت میں ، نماز جماعت بر قرار رہے ، نیز وہ محترم علماء دین بھی جو اس گاوٴں میں تبلیغ کے لئے تشریف لاتے ہیں انہوں نے بھی دعوت دی ہے لیکن میں نظر کی کمزوری کی وجہ سے ، احتیاط کررہاہوں چنانچہ اگر آپ اجازت مرحمت فرمائیں تو میں اس ذمہ داری کو سنبھال لوں؟
جواب:۔ اگر مومنین آپ کی عدالت کا یقین رکھتے ہیں ، اور آپ کی قرائت صحیح ہے اور کوئی عالم دین جماعت کرانے کے لئے موجود نہیں ہے تو اس صورت میں آپ جماعت کراسکتے ہیں ۔
جمعہ اور عیدین کی نماز
سوال ۲۶۶۔ اگر مسافر باطہارت( وضو) ہو کر نماز جمعہ کے دونوں خطبے سنے کیاظہر کی دورکعت نماز کی جگہ پر کافی ہےں ، اور کیا مسافر نماز جمعہ میں شریک ہوسکتا ہے ؟
جواب:۔ مسافر نماز جمعہ میں شرکت کرسکتا ہے اس کی نماظہر کی دورکعت کے لئے کافی (مجزی)ہے لیکن تنہا دو خطبوں کا سننا کافی نہیں ہے بلکہ دو رکعت نما ز جمعہ بھی ضرورپڑھے۔
سوال ۲۶۷۔ بعض علاقوں میں ،اذان سے پہلے ہی نماز جمعہ کے خطبے شروع کردیتے ہیں کیا اس صورت میں بھی ، نماز جمعہ میں شرکت کرنا واجب تخییری ہے ؟
اور اگر کوئی نماز جمعہ میں شرکت کرے تب بھی ظہر کی نماز اداکرنا ضروری ہے ؟
جواب:۔ مفروضہ مسئلہ میںاحتیاط کے طورپر نماز ظہر بھی پڑھے ۔
سوال ۲۶۸۔ دو نماز جمعہ کے درمیان جو مسافت اور فاصلہ معتبر ہے ، کیا اس فاصلہ کو اسی راستہ سے حساب کیا جائے گا جس سے لوگ آتے جاتے ہیں یا ہوائی راستے سے حساب ہوگا َ نیز اس مسئلہ کی دلیل کیا ہے ؟
جواب:۔ زمینی راستہ معیا ر ہے اور اس مسئلہ کی دلیل مطلق طور پر راستہ کہنا ہے اس لئے کہ مطلق( بغیر قید و شرط کے ) راستہ کہا جائے (یعنی فقط راستہ کہاجائے نہ ہوائی راستہ اور نہ زمینی راستہ ) تومعمولی راستہ مراد ہوتا ہے خصوصاً ہوائی سیدھا راستہ ، عام معمولی راستہ سے جس سے لوگ آمد و رفت کرتے ہیں ، کم ہوتا ہے ، اگر سید ھا راستہ معیار ہوتا تو روایات میں صراحت سے بیان کیا جاتا ( چونکہ بیان نہیں ہوا ہے ، لہٰذا عام اور معمولی راستہ مراد ہے مترجم )
سوال ۲۶۹۔ کیا( جمعہ کے دن ) نماز عصر میں ، امام جمعہ کی اقتداء کرنا صحیح ہے ؟
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۷۰۔ کیا جمعہ کی نماز میں خواتین کی شرکت مکروہ ہے ؟
جواب :۔ ہمارے زمانے میں عنوان ثانوی کو ملحوظ رکھتے ہوئے ، نماز جمعہ میں خواتین کی شرکت بہتر ہے ۔
سوال ۲۷۱۔ کیا دو جگہ پر نما ز عیدین کی جماعت کرائی جا سکتی ہے ؟
جواب:۔ ایسا کرنے میں اشکال ہے لیکن نماز پنجگانہ میں دو جگہ دو مختلف گروہوں کے ساتھ جماعت کرائی جاسکتی ہے ۔
نماز کے متفرق مسائل
سوال ۲۷۲۔ نمازی حضرات نماز کے بعد تین سلام ( زیارت) پڑھتے ہیں ، کیا اس عمل کے لئے کوئی خاص نص موجود ہے ؟
جواب:۔ تین سلام جو تین طرف (رخ کرکے) پڑھے جاتے ہیں ان کے لئے کوئی خاص نص موجود نہیں ہے لیکن زیارت کے مطلقہ حکم کی نیت سے کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۷۳۔ کیاواجب نمازوں کو تعلیم دینے کی صورت میں پڑھا جاسکتا ہے ؟
جواب:۔ جب بھی قصد قربت کے ساتھ پڑھی جائے کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۷۴۔ صبح کی اذان ہونے میں ایک گھنٹہ باقی ہے اور میں ابھی تک مطالعہ کرنے میں مصروف ہوں اگر اس وقت میں سو جاوٴ ں تو یقینا نماز صبح قضا ہوجائے گی اس طرح کی صورت حال میں میرے لئے سونے کا کیا حکم ہے؟ اور کیا اس مسئلہ کو رمضان المبارک کے مہینہ میں اذان صبح سے پہلے ، مجنب ہونے والے شخص کے مسئلہ سے تشبیہ دی جاسکتی ہے ؟
جواب:۔ یہ جانتے ہوئے کہ نماز قضا ہوجائے گی سونے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن جہاں تک ممکن ہو اس کام کو انجام نہ دے ۔
سوال ۲۷۵۔ جب کوئی مسلمان شخص فضائی ماموریت پر کرہٴ زمین کی فضا سے باہر نکل جائے چونکہ خلا میں چلا جاتاہے اور وہاں پر کھڑے ہونے یا رکنے کی بھی کوئی صورت نہیں ہے ، وضو بھی نہیں کرسکتا کیونکہ وہاں پانی بھی معلق حالت میں ہوتا ہے اور فضا پیما کی حساس مشینری کی وجہ سے غبار کا چھوٹے سے چھوٹا ذرّہ بھی نہیں ہے جوتیمم کرسکے اور اگر ہو گا بھی تو معلق حالت میں یہاں تک کہ نہ اس کے لئے افق ہے اور نہ قبلہ ، اس صورت میں اس کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب:۔ اسی حالت میں اپنی نماز ادا کرے اور اگر اس کی مدت کم تھی تو احتیاط کے طور پر قضا بھی کرے لیکن اگر طویل مدت تھی تو قضا پڑھنا ضروری نہیں ہے ۔
سوال ۲۷۶۔ آپ کی نظر میں لڑکیوں کے بالغ ہونے کی عمر اور شرائط کیاہےں نیز ان کی شرعی تکلیف کیا ہے ؟
جواب:۔ قمری مہینہ کے اعتبار سے نو سال کامل ہونے کے بعد لڑکیاں بالغ ہوجاتی ہیں ، لیکن اگر اپنے بعض فریضوں جیسے روزہ کو کمزوری کی وجہ سے ، انجام نہ دے سکیں ، تو یہ تکلیف ان سے ساقط ہے اور اس کے بجائے ہر روز ایک مد طعام ۷۵۰/ گرام گیہوں یا اسی کے جیسی دوسری چیز ) فقیر کو دیدیں ۔
سوال ۲۷۷۔ کوئی شخص کسی بھی طور پر ، سفر پر یا کسی کام کے باعث قطب کے سفرپر چلاگیا اوروہاں پر اس کا کافی مدت تک قیام کا ارادہ ہے ( ملوظ رہے کہ قطب میں چھ مینہ دن اور اور چھ مہینہ رات ہوتی ہے ) اس صورت میں اس کی نماز روزہ اور قبیلے کی کیا کیفیت ہے ؟ اسی طرح اگر کوئی شخص چاند پر جانے کا رادہ رکھتا ہو تو راستے ،راکٹ اور چاند پر اس کے نماز اور روزے کی کیفیت کیا ہوگی؟
جواب :۔ معتدل علاجات کے مطابق عمل کرے اس مطلب کو ہم نے ”کتاب نماز و روزہ در قطبین “میں تفصیل سے بیان کیا ہے ، قطبی علاقوں میں ، قبلہ کی کوئی شکل نہین ةے ، اس لئے اسی سمت میں کھڑا ہو جائے جس سمت میں مکہ کا سب سے کم فاصلہ ہو اور یہیں سے فضائی سفر میں ، نماز و روزے کا حکم بھی روشن ہو جاتا ہے ، فضائی مسافروں کا قبلہ اس سمت میں ہے جدھر زمین اور اس کامتداد آسمان میں پایا جاتا ہے ۔
سوال ۲۷۸۔ تارک الصلاة مدیروں کی اتباع کرنا کیسا ہے ؟
جواب : ۔ ان کے غیر شرعی احکام کی پیروی کرنا جائز نہیں ہے ، لیکن صحیح اور شرعی ( جائز) دستورات میں ان کی اتباع کرنا چاہئیے ، اور ضروری ہے کہ اسلامی معاشرے کے کاموں پر نگراں ، ایسے ، اشخاص رکھے جائیں جو اسلامی احکام کے پا بند ہوں ۔
سوال ۲۷۹۔ جو شخص جانتا ہے یا قوی احتمال ( رکھتا)ہے کہ شب نشینی یامطالعہ وغیرہ کی وجہ سے ، اس کی نماز صبح قضا ہو جائے گی ، کیا اس کے لئے شب نشینی یا مطالعہ کرنا شر عاً جائز ہے ؟
جواب:۔ یہ کام احتیاط کے خلاف ہے اور اگر نماز کی بے حرمتی کا سبب ہو تو حرام ہے ۔
سوال ۲۸۰۔ نماز کے قنوت میں عربی کے علاوہ دوسری زبان میں ، دعا کرنا ،یا ماثورہ دعا وٴں کے علاوہ ، دوسری دعائیں پڑھنے کا کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ عربی زبان کے علاوہ دیگر غیر عربی زبانوں میں ، دعا کرنے میں اشکال ہے اور ہر وہ دعا جن کا مضمون صحیح ہو، قنوت میں ،پڑھنے میں کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۸۱۔ بعض استوڈینٹس حضرات کا عقیدہ ہے کہ چونکہ نما کے بعد مصافحہ کرنے کا تذکرہ ، حدیثوں میں نہیں ہوا ہے لہٰذا یہ کام بدعت ہے اور ترک ہونا چاہئیے ، دوسری طرف ، یعنی نماز کے بعد مصافحہ کو ترک کرنے کی صورت میں ، نماز جماعت کے مخصوس مقاصد جیسا کہ اس کے لئے مناسب اورشائستہ ہیں وہ حاصل نہیں ہوتے لہٰذا آپ کی خدمت میں متمنی ہوں کہ نماز کے بعد مصافحہ کا حکم بیان فرمادیجئے؟
جواب:۔ بدعت وہ ہے جو دین میں جزء کی حیثیت اور قصد سے انجام دے یا عمل میں ایسے مطلب ( جزء دین ہونے ) کا تعارف کرائے ، لہٰذا اگرمصافحہ مطلق مطلوبیت کی نیت سے جو اس میں پائی جاتی ہے ، انجام دے اور کبھی کبھی اسے ترک کردے تو کوئی اشکال نہیں ہے ۔
سوال ۲۸۲۔ جو شخص اپنی قرائت کی اصلاح کرنے پر قادر نہیں ہے لیکن زبان کا علاج کرانے کی صور ت میں ، قوی احتمال ہے کہ کہ اصلاح کرنے میں کامیاب ہو جائے گا، کیا یہ علاج اس کے لئے واجب ہے؟
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ علاج کرائے ۔
سوال ۲۸۳۔ کیا ، تواضع اورجواس کو مجتمع کرنے کی غرض سے ، نماز میں آنکھوں کا بند کرنا جائزہے ؟
جواب:۔ نماز میں آنکھوں کا بند کرنا مکروہ ہے ۔، لیکن اگر حضور قلب کا فقط ایک یہی راستہ ہو تو اس صورت میں اس کام کا مستحب ہو نا بعید نہیں ہے ۔
گیارہویں فصل : روزہ کے احکام
روزے کو باطل کرنے والی چیزیں
سوال ۲۸۴۔ کیا روزہ کی حالت میں ، غیر خوراکی سامان ( جیسے ڈاکٹری معائنہ کے آلات ) منھ کے اندر لے جانا روزہ کے باطل ہونے کا باعث ہے ؟
جواب:۔ روزہ کے باطل ہونے کا باعث نہیں ہے ، مگر اس صورت میں جب اس آلہ کو لعاب دہن سے آلودہ ہونے کے بعد باہر نکالے اور پھر دوبارہ منھ میں ڈالے اور آلہ کی رطوبت اس قدر ہو کہ لعاب دہن میں مخلوط ہوکر ختم نہ ہو سکے اور اس کو نگل لے ۔
سوال ۲۸۵۔ ایک شخص شدیدطورپر سانس ( دمہ) کے مرض میں مبتلاہے ، علاج کے لئے ایک ایسے طبی آلہ سے استفادہ کرتا ہے ، جس کی سوئی کو دبانے سے ،سیال دوا، گیس پوڑدی کی شکل میں منھ کے راستہ ، پھیبھڑوںمیں یہ عمل اس کی تسکین کا باعث ہوتا ہے ( یہ عمل دن کے اوقات میں چند مرتبہ انجام دیا جاتا ہے ) کیا مذکورہ طبی آلہ سے استفادہ کرنے کے ساتھ ساتھ یہ شخص روزہ بھی رکھ سکتا ہے ؟ ملحوظ رہے کہ اس کے بغیر اس کا روزہ رکھنا ، نہ قابل تحمل اورمقشقت کا باعث ہے ؟
جواب:۔ اگر رقیق گیس کی شکل میں ، جسم میں داخل ہو جائے تو کوئی حرج نہیں ہے اس کا روزہ صحیح ہے ، ہم نے اس کے عام معمولی نمونے کو دیکھے ہےں لہٰذا کوئی اشکال نہیں ہے۔
سوال ۲۸۶۔ کیا گلے کا بلغم ، نگل لینے سے روزہ باطل ہوجاتاہے ؟۔
جواب:۔ اگر منھ میں نہ آئے یا بے اختیار نگل لے تو کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۸۷۔ کیا سینے کا بلغم نگل لینے سے روزہ باطل ہو جاتا ہے ؟
جواب:۔ اگر منھ میں نہ آئے تو روزہ کو باطل نہیں کرتا ۔
سوال ۲۸۸۔ کیا رمضان المبارک کے مہینہ میں ، مجنب کے بیدار ہونے کے لئے مختصر جاگنا کافی ہے ( مثال کے طور پر گھڑی کا الآرم بجے اور وہ نیندسے بے دار ہو کر گھڑی کے الآرم کو بند کر ے اور پھر سو جائے ) ۔
جواب:۔ اس مقدار میں جاگناکافی نہیں ہے ۔
قضا روزے اور کفارے کے احکام
سوال ۲۸۹۔ جو شخص احتمال دیتا ہے کہ اس کے روزے قضا ہیں ، کیا اس صورت میں مستحب روزے رکھ سکتا ہے ؟ یا اگر مستحب روزے کے لئے مثال کے طورپر جیسے اعتکاف کی نذر کرے تو کیا حکم ہے ؟
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۲۹۰۔ مجتہدین کرام ( دام بقائھم ) کی اجازت یاان لوگوں کی اجاز ت سے جنہیں مجتہدین مراجع کرام نے اجازت دے رکھی ہے کیا غیر عمدی روزے کے کفارے کو ( کھانا کھلانے کے علاوہ ) فقیروں کی عام ضرورتوں میں ، صرف کیاجاسکتا ہے ؟
جواب:۔ اس کا مصرف فقط اطعام ہے ( یعنی فقط فقیروں کو کھانا کھلانے میں صرف کیا جائے )
سوال ۲۹۱۔رمضان میں عذر شرعی مثلاً بیماری وغیرہ کی بناپر ترک شدہ روزے کے کفارے کی کیا قیمت ہے ؟ آیا قیمت کا معیار اس شہر کی قیمت ہے جس میں وہ رہتا ہے یا معیار ۷۵۰/ گرام گیہوں ، خرما یا روٹی ہیں ، یہ دیکھے بغیرکے کس شہر میں زندگی گزاررہاہے ؟
جواب:۔ اسی شہر کی قیمت معیار ہے جس شہر میں کفار دینا ہے کفارہ کی مقدار ۷۵۰/ گرام گیہوں ہے لیکن اس کی قیمت بھی ، مستحق شخص کو اس شرط کے ساتھ دی جاسکتی ہے ، جبکہ اطمنان حاصل ہو جائے کہ وہ شخص ، روٹی کے لئے خرچ کرے گا ۔
سوال ۲۹۲۔ کیا میں رمضان کے قضا روزے کا کفارہ اپنے بھائی کو دے سکتا ہوں جو شادی کا رادہ رکھتا ہے، اور اس سلسلہ میںضرورت مند ہے ؟
جواب :۔ احتیاط یہ ہے کہ فقط روٹی ( کھانے ) میں خرچ کیا جائے ۔
سوال ۲۹۳۔ اس وقت میری عمر تقریبا ً ۲۲ / سال ہے اور قریب چار سال سے اپنے تمام روز ے رکھ رہاہوں لیکن اس سے پہلے کے چند روزے بعض وجوہات کی بناپر نہیں رکھے ہیں اور مجھے یہ بھی معلوم نہیں کہ ان روزوں کی تعدادکیا ہے ، اس سلسلہ میں میرا کیا وظیفہ ہے؟
جواب:۔ جس تعدا میں روزے نہ رکھنے کا یقین ہے اسی تعداد میں روزے کی قضاکرےںاور اگر عمداً روزے نہیں رکھے تھے تو کفارہ بھی واجب ہے ، البتہ اگر روزے کے مسائل سے آگاہ نہیں تھے تو کفارہ واجب نہیں ہے ۔
سوال ۲۹۴۔ جس شخص نے زیادہ تعداد میں روزے چھوڑ رکھے ہیں ، اس کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب:۔ حتی المقدور جس قدر روزے رکھ سکتا ہو روزوں کی قضا کرے اور ان کے کفارے کے متعلق ہماری توضیح المسائل کہ مسئلہ نمبر ۱۴۰۱ اور ۱۴۰۲ کے مطابق عمل کرے اور جس قدر ا س کے لئے مقدور نہیں ہے وہ سب اس سے ساقط ہیں ۔
سوال ۲۹۵۔ جو شخص رمضان المبارک کے فقط ۲۸/ روزے درک کرتاہے چونکہ رمضان المبارک کے شروع میں ایران میں ہے اور آخری دنوں میں ایک عرب ملک میں چلا گیاہے اور وہاں پر عید کا چاند ( دوسری جگہوں سے ) ایک دن پہلے ہی نظر آجاتا ہے ، لہٰذا اس طرح اس شخص کو فقط ۲۸/ روزے ملے ہیں ، کیا اس صورت میں اس پر ایک روزے کی قضا واجب ہے یا کوئی قضا واجب نہیں ہے ؟
جواب:۔ ایک روزے کی قضا واجب نہیں ہے لیکن احتیاط، مستحب ہے ۔
سوال ۲۹۶۔ واجب النفقہ ( یعنی جس کا نفقہ واجب ہے) کیا اس کو کفارہ دینا جائز ہے ؟
جواب:۔ احتیاط یہ ہے کہ جس کا نفقہ واجب ہے اس کو مطلقاً کفارہ نہ دیاجائے ۔
سوال ۲۹۷۔ جس خاتون نے اپنے بالغ ہونے کے پہلے سال ، روزے نہیں رکھے ، اس کا کیا وظیفہ ہے اور اگر قضا کرے تو کیسے ؟
جواب:۔ اس صورت میں اس پر کفارہ نہیں ہے ، خواہ جاہل مقصر تھی یاجاہل قاصر ، لیکن اگر عمداً او رجانتے ہوئے روزے نہیں رکھے تو کفارہ ہے ، نیز مسئلہ کی تمام صورتوں میں روزوں کی قضا لازم ہے ۔
سوال ۲۹۸۔ ایک شخص نے رمضان المبارک کے مہینہ میںچند روز عمداً روزے نہیں رکھے لیکن اس کو صحیح تعداد معلوم نہیں ہے اس صورت میں اس کا کیا وظیفہ ہے ؟
جواب:۔ جس قدر روز ے کے چھوڑنے کا یقین ہے ، اسی تعداد میں روزوں کی قضا کرے اور کفارہ بھی دے لیکن اگر اس کے لئے سخت ہو اور انجام نہ دے سکتا ہو تو اس صورت میں ، توضیح المسائل کے مسئلہ نمبر ۱۴۰۲ کے مطابق عمل کرے ۔
سوال ۲۹۹۔ آیا اجرت پر رکھے گئے روزوں کو ظہرکے بعد افطار کرنا جائز ہے ؟
جواب:۔ کوئی حرج نہیں ہے ۔
سوال ۳۰۰۔ میں امام خمینی رحمة اللہ علیہ کا مقلد تھا اور جناب عالی کے فتوے سے اب بھی امام ۺ کی تقلید پر باقی ہوں مستحب روزوں کے سلسلہ میں انہوں نے فرمایا ہے اگر ماں باپ اور دادا کی اذیت کا سبب بن جائے تو مستحب روزہ جائز نہیں ہے ۔ ملحوظ رہے کہ میں شادی کرنے پر قادر نہیں ہوں اور حرام کام سے بچنے کا ، مستحب روزے رکھنا مجھے بہترین راستہ نظر آتا ہے دوسری جانب ماں باپ میرے مستحب روز ے رکھنے پر راضی نہیں ہےں اور میں ان کو ناراض بھی نہیں کرسکتا کیا مذکورہ شرائط کو نظر میں رکھتے ہوئے ماں باپ کی مرضی کے بغیر روزہ رکھا جاسکتا ہے ؟
جواب:۔ مذکورہ فرض میں آپ کے لئے مستحب روزہ رکھنا جائز ہے لیکن کوشش کریں اور جس قدر بھی ہو سکے ان کی رضایت حاصل کریں ۔
سوال ۳۰۱۔ اگر ڈاکٹر کسی مریض کو روزہ رکھنے سے منع کرے ( یہ بات نظر میں رکھتے ہوئے کہ بعض ڈاکٹر حضرات شرعی مسائل سے واقف نہیں ہیں )کیا اس سلسلہ میں اس کی رائے قابل قبول ہے ؟
جواب:۔ اگر قابل اطمنان ہے تو اس کی رائے قابل قبول ہے ۔





.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک
قالب وبلاگقالب وبلاگ