تبلیغات
بلتستانی ، baltstani - سوال ۔ کیا قرآن میں بعض صحابہ کی طرف فسق و فجور کی نسبت دینا نظریہ عدالت صحابہ پر اشکال کا باعث نہیں ہے ؟
قالب وبلاگ قالب وبلاگ

بلتستانی ، baltstani
 

به وبلاگ من خوش آمدید
 

سوال ۔ کیا قرآن میں بعض صحابہ کی طرف فسق و فجور کی نسبت دینا نظریہ عدالت صحابہ پر اشکال کا باعث نہیں ہے ؟


جواب ۔ قرآن میں ارشاد ہوتا ہے ( یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِنْ جاء َکُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا اٴَنْ تُصیبُوا قَوْماً بِجَہالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلی ما فَعَلْتُمْ نادِمینَ) ( ایمان والو اگر کوئی فاسق کوئی خبر لے کر آئے تو اس کی تحقیق کرو ایسا نہ ہو کہ کسی قوم تک ناواقفیت میں پہنچ جاؤ اور اس کے بعد اپنے اقدام پر شرمندہ ہونا پڑے ،
خدا وند عالم حکم دیتا ہے کہ فاسق کی خبر کی تحقیق اور اس سے احتیاط کی رعایت کی جائے اس کے کہنے کے مطابق عمل نہ کیا جا ئے ممکن ہے کہ وہ واقع کے لحاظ سے خطاکار اور جھوٹا ہو ،
ابن کثیرنے بہت سے مفسرین کا قول نقل کیا ہے کہ انہوںنے کہا : یہ آیت ولیدبن عقبہ کے لیے نازل ہوئی ، جس وقت پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ولید کو بنی مصطلق سے زکات جمع کرنے کے لیے حارث بن ضرار کے پاس جوکہ اپنے قبیلہ کے سردار تھے، بھیجا تاکہ وہ زکات کا جمع شدہ مال جوحارث بن ضرار کے پاس ہے وہ اس کے حوالے کردیں۔ لیکن ولیدڈر کی وجہ سے آدھے راستہ سے وآپس آگیا ، اورپیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی خدمت میں حاضر ہوکر کہنے لگا یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )حارث نے زکات دینے سے منع کردیا اور وہ مجھے قتل کرنا چاہتا تھا ، پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )یہ سنکر ناراض ہوئے اور ایک گروہ کو حارث کے پاس بھیجا ، ادھر حارث اپنے ساتھیوں کے ساتھ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی طرف روانہ ہوا ،راستہ میں اچانک آپ کی ملاقات اس جماعت سے ہو گئی جن کو پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے بھیجا تھا وہ کہنے لگے یہی حارث ہے جس وقت دونوں قر یب ہوئے تو حارث نے پوچھا کہا ں کا ارادہ ہے؟ تو انھوں کہا ہم تمہارے ہی پاس جارہے تھے ، حارث نے پوچھا کس لیے ؟ توانھوں کہا کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )نے ولید ابن عقبہ کو تمہارے پا س بھیجا تھا وہ کہتا ہے کہ تم نے زکات دینے س
ے منع کر دیا اور تم اس کو قتل بھی کرنا چاہتے تھے ، حارث نے کہا: اس خداکی قسم جس نے رسول کو حق کے ساتھ مبعوث با رسالت فرمایا میں نے ہر گز ولید کو نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ، حارث جس وقت رسول اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہوے، تو آپ نے معلوم کیا کہ تم نے ولید کو زکات دینے سے منع کردیا اور تم میرے بھیجے ہو ئے قاصد کو قتل کر نا چاہتے تھے ؟ تو حارث نے کہا خدا کی قسم ایسا نہیں ہے میں نے اس کو نہیں دیکھا اور نہ ہی وہ میرے پاس آیا ، میں نے خود سوچا کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )کی طرف سے کوئی زکات لینے کے لیے نہیں آیا تو میں ڈر گیا کہ کہیں خدا اور اس کا رسول مجھ سے ناراض تو نہیں ہو گئے ۔ اس وقت یہ آیت نازل ہوئی ( یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا إِنْ جاء َکُمْ فاسِقٌ بِنَبَإٍ فَتَبَیَّنُوا اٴَنْ تُصیبُوا قَوْماً بِجَہالَةٍ فَتُصْبِحُوا عَلی ما فَعَلْتُمْ نادِمینَ)) ۔(۳ ) ۔

__________________
۱۔ سورہ حجرات، آیت ۶ ۔
۲۔ تفسیر ابن کثیر : ج ۴ ، ص ۲۰۹ ۔
۳۔ سیمای عقاید شیعہ ، ص ۳۲۳ ۔





.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک
قالب وبلاگقالب وبلاگ