تبلیغات
بلتستانی ، baltstani - سؤال: سوره "کوثر" میں "کوثر" سے کیا مراد هے؟
قالب وبلاگ قالب وبلاگ

بلتستانی ، baltstani
 

به وبلاگ من خوش آمدید
 
نوشته شده در تاریخ پنجشنبه 30 دی 1389 توسط irshad hussain

سؤال: سوره "کوثر" میں "کوثر" سے کیا مراد هے؟
جواب: خداوند عالم سوره کوثر میں پیغمبر اکرم(صلی الله علیه و آله)کو خطاب کرتے هوئے فرماتا ہے:” ہم نے تجھے کو ثر عطا کیا“( اِنّا اعطینا ک الکوثر)” کوثر“ وصف ہے جو کثرت سے لیا گیا ہے، اور فراواں خیر وبرکت کے معنی میں ہے اور” سخی“ افراد کو بھی” کوثر“ کہا جا تا ہے۔
اس بارے میں کہ یہاں کوثر سے کیا مراد ہے، ایک روایت میں آیا ہے کہ جس وقت یہ سورہ نازل ہوا، پیغمبر اکرم منبر پر تشریف لے گئےاور اس سورہ کی تلاوت فرمائی۔ اصحاب نے عرض کیا یہ کیا چیز ہے جو خدا نے آپ کو عطا فرمائی ہے؟ آپ نے فر مایا کہ یہ جنت میں ایک نہر ہے ،جو دودھ سے زیادہ سفید اور قدح( بلور) سے زیادہ صاف ہے، اس کے اطراف میں دُر و یا قو ت کے قبے ہیں
ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ ا لسلام سے آیا ہے کہ آپ نے فر مایا:
” کوثر جنت میں ایک نہر ہے جو خدا نے اپنے پیغمبر کو ان کے فرزند( عبد اللہ جو آپ کی زندگی میں فوت ہو گئے تھے) کے بدلے میں عطا کی ہے۔
بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس سے مراد وہی” حوضِ کوثر“ ہے جو پیغمبر سے تعلق رکھتا ہے، اور جس سے مومنین جنت میں داخل ہونے کے وقت سیراب ہو گے۔
بعض نے اس کی نبوت سے تفسیر کی ہے، بعض دوسروں نے قرآن سے، بعض نے اصحاب و انصار کی کثرت سے اور بعض نے کثِر ت اولاد اور ذُریّت سے، جوسب آپ کی دُختر نیک اختر فا طمہ زہرا علیہا السّلام سے وجود میں آئی اور اس قدر بڑھ گئی ہے کہ حساب و شمار سے باہر ہو گئی ہے اور دامنِ قیا مت تک پیغمبر اسلام کے وجود کی یاد گار ہے۔ بعض نے اس کی ”شفا عت“ سے بھی تفسیر کی ہے اور اس سلسلہ میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے ایک حدیث بھی نقل کی ہے
یہاں تک کہ فخر رازی نے ” کو ثر“ کی تفسیر میں ” پندرہ قول“ نقل کیے ہیں۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اس وسیع معنی کے واضح مصادیق کا بیا ن ہے، کیو نکہ جیسا کہ ہم نے کہا ہے” کوثر“ ” خیر کثیر اور فراداں نعمت“ کے معنی میں ہے، اور ہم جانتے ہیں کہ خدا وند تعا لیٰ نے پیغمبر اکرم کو بہت ہی زیادہ نعمتیں عطا فر مائی ہیں اور جو کچھ اوپر بیان کیا گیا ان میںسے ہر ایک اس کے مصاد یق میں سے ایک واضح مصداق ہے اور ان کے علاوہ اور بھی بہت سے مصداق ہیں، جنہیں آیت کی مصداقی تفسیر کے عنوان سے بیان کیا جا سکتا ہے- بہر حال تمام میدانوں میں پیغمبر اکرم کی ذات پر تمام نعمتیں۔ یہاں تک کہ دشمنوں کے ساتھ جنگوں میں آپ کی کامیابیوں میں،یہاں تک کہ آپ کی اُ مّت کے علماء جو ہر عصر اور ہر زمانہ میں قرآن واسلام کی مشعلِ فروزاں کی پا سداری کر تے ہیں، اوراسے دنیا کے ہر گوشہ میں لے جاتے ہیں۔ سب اس خیر کثیر میں شامل ہیں-
اس بات کو نہیں بھولنا چا ہئیے کہ خدا اپنے پیغمبر سے یہ بات اس وقت کہہ رہا ہے کہ ابھی تک اس خیر کثیر کے آثار ظاہر نہیں ہوئے تھے۔ یہ ایک ایسی خبر اور پیش گوئی تھی جو مستقبل بعید کے لئے کی جا رہی تھی۔ یہ ایک اعجاز آمیز اور رسو لِ اکرم کی دعوت کی حقا نیت کو بیان کرنے والی خبر ہے۔
ہم بیان کر چکے ہیں کہ ” کو ثر “ ایک عظیم جا مع ااور وسیع معنی رکھتا ہے۔اوروہ” خِیرکثیر و فراداں ہے“ او ر اس کے بہت زیادہ مصادیق ہیں۔ لیکن بہت سے بزرگ شیعہ علماء نے واضح ترین مصادیق میں سے ایک مصداق” فا طمہ زہرا“( سلام اللہ علیہا) کے وجود مبارک کو سمجھا ہے۔ چو نکہ آیت کی شانِ نزول سے ظاہر ہے کہ دشمن پیغمبرِاکرم کو ابتر اور بلا عقب ہو نے سے متہم کرتے تھے۔ قرآن ان کی بات کی نفی کے ضمن میں کہتا ہے:” ہم نے تجھے کو ثر عطا کیا ہے“ اس تعبیر کا مطلب یہی بنتا ہے کہ یہ” خیر کثیر“ فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا ہی ہیں کیو نکہ پیغمبر کی نسل اور ذریت اسی دُخترِ گرامی کے ذر یعے سا رے عالم میں منتشر ہوئی، جو نہ صرف پیغمبر کی جسمانی او لاد تھی بلکہ انہوں نے آپ کے دین اور اسلام کی تمام اقدار کی حفاظت کی اور اسے آنے والوں تک پہچایا۔ نہ صرف اہلِ بیت کے آئمہ معصومین، جن کی اپنی ایک مخصوص حیثیت تھی، بلکہ ہزارہا فرزندانِ فا طمہ عالم میں پھیل گئے، جن میں بڑے بڑے بزرگ علماء مئو لفین،فقہا،محدّ ثین، مفسّرین والا مقام، اور عظیم حکمران ہو گزرے ہیں جنہوں نے ایثار و قر بانی اور فدا کاری کے ساتھ دینِ اسلام کی حفاظت کی کو شش کی۔
یہاں پر” فخر رازی“ کی ایک عمدہ بحث ہمارے سامنے آئی ہے جو اُس نے کوثر کی مختلف تفسیروں کے ضمن میں بیان کی ہے:تیسرا قول یہ ہے کہ یہ سورہ ان لوگوں کے ردّ کے عنوان سے نازل ہواہے جو پیغمبر اکرم کی اولاد کے نہ ہونے پر طعن و طنز،اور تنقید و اعتراض کرتے تھے۔ اس بنا ء پر سورہ کا معنی یہ ہوگا کہ خدا آپ کو ایسی نسل دے گا جو زمانئہ دراز تک باقی رہے گیغور تو کرو کہ لوگوں نے اہلِ بیت کے کتنے افراد کو شہید کیا لیکن اس کے با وجود دُنیا اُن سے بھری پڑی ہے جب کہ بنی اُمیہ میں سے( جو اسلام کے دشمن تھے) کوئی قابل ذکر شخص دنیا میں باقی نہیں رہا پھر آنکھ کھول کر دیکھ اور غور کر کہ فاطمہ کی اولاد کے در میان باقر و صادق و رضاو نفسِ ذکیہ(۱)۔

 1. تفسیر نمونه، جلد 27، صفحه 397.





.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک
قالب وبلاگقالب وبلاگ