تبلیغات
بلتستانی ، baltstani - سؤال : فتح مکه کے بعد پیغمبر اکرم (صلى الله علیه وآله) نے مشرکین مکه کے ساته کیسا سلوک کیا ؟
قالب وبلاگ قالب وبلاگ

بلتستانی ، baltstani
 

به وبلاگ من خوش آمدید
 

سؤال : فتح مکه کے بعد پیغمبر اکرم (صلى الله علیه وآله) نے مشرکین مکه کے ساته کیسا سلوک کیا ؟

جواب: اس سریع اور شاندار کامیابی کے بعد پیغمبر نے خانہ کعبہ کے دروازے کے حلقہ میں ہاتھ ڈالا اور وہاں پر موجود اہلِ مکہّ کی طرف رخ کر کے فرمایااب بتلاؤ تم کیا کہتے ہو؟اور تمہارا کیا خیال ہے کہ میں تمہارے بارے میں کیاحکم دوں گا؟
انہو ں نے عرض کیا:ہم آپ سے نیکی اور بھلائی کے سوااور کوئی توقع نہیں رکھتے !آپ ہمارے بزرگوار بھائی اور آپ ہمارے بزر گوار بھائی کے فر زند ہیں۔آج آپ برسرِ اقتدار آگئے ہیں ،ہمیں بخش دیجئے۔پیغمبر کی آنکھوں میں آنسو ڈبڈبانے لگے اور مکہّ کے لوگ بھی بلند آواز کے ساتھ رونے لگے ۔
پیغمبر اکرم نے فر مایا:”میں تمہارے بارے میں وہی بات کہتا ہوں جو میرے بھائی یوسف نے کہی تھی کہ آج تمہارے اوپر کسی قسم کی کوئی سر ز نش اور ملامت نہیں ہے،خدا تمہیں بخش دے گا،وہ ارحم الراحمین ہے۔“
اور اس طرح سے آپ نے ان سب کو معاف کر دیا اور فر مایا:”تم سب آزاد ہو،جہاں چا ہو جا سکتے ہو۔
یہا ں تک کہ جب آپنے یہ سنا کہ لشکرِاسلام کے علمدار”سعد بن عبادہ نے انتقام کا نعرہ بلند کیا ہے اور وہ یہ کہہ رہا ہے کہ:الیوم یوم الملحمة”آج انتقام کا دن ہے“تو پیغمبر نے علی علیہ السلام سے فرمایا۔۔۔۔۔جلدی سے جاکر اس علم کو لے لو اور اس سے علم لے کر یہ نعرہ لگاوٴکہ : الیوم یوم المرحمة“ آج عفو و بخشش اور رحمت کا دن ہے“۔
اور اسی طرح مکہ بغیر کسی خونریزی کے فتح ہو گیا ،، عفو و رحمت ِ اسلامی کی اس کشش نے، جس کی انہیں بالکل توقع نہیں تھیں ، دلوں پر ایسا اثر کیا کہ لوگ گروہ گروہ آکر مسلمان ہو گئے، اس عظیم فتح کی صدا تمام جزائر عربستان میں جاپہنچی۔
اسلام کی شہرت ہرجگہ پھیل گئی اور مسلمانوں اور اسلام کی ہرجیت سے دھاک بیٹھ گئی۔
اس کے بعد آپ اپنے اُونٹ سے نیچے اترے اور بتوں کو توڑنے کے لیے خانہ کعبہ کے قریب آئے۔آپ یکے بعد دیگرے بتوں کو سر نگوں کرتے جاتے تھے اور فرماتے جاتے تھے:”جاء الحق وزھق ا لباطل ان الباطل کان زھوقا”حق آگیا اور باطل مٹ گیا،اور باطل ہے ہی مٹنے والا“۔
بعض تاریخوں میں آیاہے کہ جب پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم خانہ کعبہ کے دروازے کے پاس کھڑے ہوئے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”لا الہ الا اللہ وحدہ،وحدہ انجز وعدہ و نصر عبدہ، وھزم الاحزاب و ھزم الاحزاب وحدہ، الا ان کل مال اوماٴثرہ او دم تدعی فھو تحت قدمی ھاتین!
” خدا کے سوا اور کوئی معبود نہیں ۔ وہ یکتا و یگانہ ، اس نے آخر کار اپنے وعدے کو پورا کردیا ۔ اور اپنے بندے کی مدد کی ، اور اس نے خود اکیلے ہی تمام گروہوں کو شکست دے دی ۔ جان لو کہ ہرمال ، ہر امتیاز ، اور ہر وہ خون جس کا تعلق ماضی اور زمانہٴ جاہلیت سے ہے ، سب کے سب میرے ان دونوں قدموں کے نیچے ہیں ۔ ( یعنی اب اس خون کے بارے میں ، جوزمانہٴ جاہلیت میں بہا یا گیا تھا، یا وہ اموال جو لوٹے گئے تھے ، کوئی بات نہ کرنا) اور زمانہٴ جاہلیت کے تمام اعزازات اور امتیازات بھی باطل ہو گئے ہیں اور اس طرح تمام گزشتہ فائلیں بند ہو گئیں ہیں ۔
یہ ایک بہت اہم اور عجیب قسم کی پیش نہادتھی جس میں عمومی معافی کے فرمان سے حجاز کے لوگوں کو ان کے تاریک اور پر ماجرا ماضی سے کاٹ کر رکھ دیا اور انہیں اسلام کے سائے میں ایک نئی زندگی بخشی جو ماضی سے مربوط کشمکشوں اور جنجالوں سے مکمل طو رپرخالی تھی۔
اس کام نے اسلام کی پیش رفت کے سلسلہ میں حد سے زیادہ مدد کی اور یہ ہمارے آج اور آنے والے کل کے لئے ایک دستور العمل ہے ۔

2. تفسیر نمونه، جلد 27، صفحه 439.





طبقه بندی: معارف اسلامی، 
.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک
قالب وبلاگقالب وبلاگ