تبلیغات
بلتستانی ، baltstani - سوال : شراب سے منع کرنے والی آیات کے متعلق عمر بن خطاب کا عکس العمل کیا تھا؟
قالب وبلاگ قالب وبلاگ

بلتستانی ، baltstani
 

به وبلاگ من خوش آمدید
 

سوال : شراب سے منع کرنے والی آیات کے متعلق عمر بن خطاب کا عکس العمل کیا تھا؟


جواب : زمخشری نے کتاب ”ربیع الابرار“ (۱) کے لہو و لعب ،لذات اور عیش و نوش کی محافل (۲) کے باب میں اور شہاب الدین ابشیھی نے ”المستطرف“ (۳) میں کہا ہے :
خدا وندعالم نے شراب کے متعلق تین آیتیں نازل کی ہیں :
پہلی آیت : خداوندعالم فرماتا ہے :
” یَسْئَلُونَکَ عَنِ الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ قُلْ فیہِما إِثْمٌ کَبیرٌ وَ مَنافِعُ لِلنَّاسِ وَ إِثْمُہُما اٴَکْبَرُ مِنْ نَفْعِہِما وَ یَسْئَلُونَکَ ما ذا یُنْفِقُونَ قُلِ الْعَفْوَ کَذلِکَ یُبَیِّنُ اللَّہُ لَکُمُ الْآیاتِ لَعَلَّکُمْ تَتَفَکَّرُونَ“
(۴) ۔ یہ آپ سے شراب اورجوئے کے بارے میں سوال کرتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ ان دونوں میں بہت بڑا گناہ ہے اور بہت سے فائدے بھی ہیں لیکن ان کا گناہ ،فائدے سے کہیں زیادہ بڑا ہے اور یہ راسِ خدا میں خرچ کے بارے میں سوال کرتے ہیں کہ کیا خرچ کریں تو کہہ دیجئے کہ جو بھی ضرورت سے زیادہ ہو. خدا اسی طرح اپنی آیات کو واضح کرکے بیان کرتا ہے کہ شاید تم فکر کرسکو ۔
اس آیت کے نازل ہونے سے پہلے بعض مسلمان شراب پیتے تھے اوربعض اس سے دوری اختیار کرتے تھے ، یہاں تک کہ ایک شخص شراب پی کر نماز میں مشغول ہوگیا اوربیہودہ باتیں کہنے لگا ، جس کے بعد یہ آیت نازل ہوئی :
” یا اٴَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا لا تَقْرَبُوا الصَّلاةَ وَ اٴَنْتُمْ سُکاری حَتَّی تَعْلَمُوا ما تَقُولُون
(۵)“ ۔ ایمان والو خبر دار نشہ کی حالت میں نماز کے قریب بھی نہ جانا جب تک یہ ہوش نہ آجائے کہ تم کیا کہہ رہے ہو ۔
اس آیت کے نازل ہونے کے بعد مسلمانوں نے شراب ،ترک کردی اور بعض شراب پیتے رہے ، یہاں تک کہ ایک روز ”عمر“ (رضی اللہ عنہ) نے شراب پی اور اس کے بعد ”اسود بن یعفر“ کے اشعار کے ذریعہ جنگ احد کے کفار پر نوحہ پڑھنے لگے وہ اشعار یہ ہیں:
1 ـ وکائن بالقلیبِ قلیبِ بدر من الفتیان والعربِ الکرامِ
2 ـ وکائن بالقلیبِ قلیبِ بدر من الشیزى المکلّل بالسنامِ(6)
3 ـ أیوعدنی ابنُ کبشةَ أن سنحیى وکیف حیاة أصداء وهامِ؟
4 ـ أیعجز أن یردّ الموتَ عنّی وینشرنی إذا بَلِیتْ عظامی؟
5 ـ ألا من مبلغُ الرحمن عنّی بأنّی تارکٌ شهر الصیامِ
6 ـ فقل للهِ یمنعنی شرابی وقل للهِ یمنعنی طعامی)
۱۔ کنویں (بدر کے کنویں) کے پاس عرب کے کریم جوان سو رہے ہیں، ۲۔ اس کنویں (بدر کے کنویں) کے پاس سخاوت مند افراد اپنی بزرگی کے ساتھ سو رہے ہیں ۔ ۳۔ فرزند کبشہ (پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)(۷) مجھے مرنے کے بعد زندہ ہونے سے ڈرا رہے ہیں، مرنے کے بعد خراب شدہ جسم جس کو کیڑوں اور حشرات نے کھا رکھا ہے ، کس طرح زندہ ہوسکتا ہے؟ ! ۔ ۴۔ کیا اس میں اتنی طاقت ہے کہ وہ مجھ سے موت کودور رکھے، اور میری ہڈیوں کو خراب ہونے کے بعد زندہ کرے؟!۔ ۵۔ کیا کوئی پیامبر ہے جو میری طرف سے خدا کو یہ پیغام پہنچائے کہ میں نے رمضان المبارک کے روزوں کو ترک کردیا ہے؟! ۶۔ اپنے خدا سے کہو کہ اگر اس میں طاقت ہے تومجھے شراب پینے سے روکے، ! اور خدا سے کہو کہ اگر تجھ میں طاقت ہے تو مجھے کھانا کھانے سے محروم کرے! ۔
عمر کے شراب پینے اور اشعار پڑھنے کی خبر پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو دی گئی ، آنحضرت غضبناک ہوگئے اور آپ اس حالت میں وہاں پہنچے کہ آپ کی عبا زمین پر خط کھینچ رہی تھی اور آپ کے ہاتھ میں جو بھی چیز تھی اس سے عمر کے سر پر مارا ۔ عمر نے کہا : خدا اور اس کے رسول کے غضب سے خدا کی پناہ چاہتا ہوں ۔
اس کے بعد خداوند عالم نے یہ آیت نازل فرمائی :
” إِنَّما یُریدُ الشَّیْطانُ اٴَنْ یُوقِعَ بَیْنَکُمُ الْعَداوَةَ وَ الْبَغْضاء َ فِی الْخَمْرِ وَ الْمَیْسِرِ وَ یَصُدَّکُمْ عَنْ ذِکْرِ اللَّہِ وَ عَنِ الصَّلاةِ فَہَلْ اٴَنْتُمْ مُنْتَہُونَ “ ۔
شیطان تو بس یہی چاہتا ہے کہ شراب اور جوے کے ذریعہ تمہارے درمیان بغض اور عداوت پیدا کردے اور تمہیں یاد خدا اور نماز سے روک دے تو کیا تم واقعا رک جاؤ گے ۔
اس وقت عمر نے کہا :
”انتھینا ، انتھینا“۔ ہم اب شراب نہیں پئیں گے ، اب شراب نہیں پئیں گے(۹) ۔

__________________
۱۔ ربیع الابرار ، ج ۴، ص ۵۱۔
۲۔ ایران اور عراق کے کتب خانوں میں اس کتاب کے متعدد نسخے موجود ہیں ۔
۳۔ المستطرف، ج ۲، ص ۲۹۱ و ۲۶۰۔
۴۔ سورہ بقرة، آیت ۲۱۹۔
۵۔ سورہ نسا، آیت ۴۳۔
۶۔ یہ بیت کتاب ”المستطرف“ میں بیان نہیں ہوئی ہے ۔
۷۔ مشرکین رسول خدا (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کو ابوکبشہ کی طرف نسبت دیتے تھے ابوکبشہ ، قبیلہ خزاعہ سے ایک شخص تھا جو قریش کو بت پرستی سے منع کرتا تھا اورچونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) بھی ان کو بت پرستی سے منع کرتے تھے لہذاآنحضرت (ص) کو ابوکبشہ سے تشبیہ دیتے تھے ۔ کہا گیا ہے کہ ابن ابی کبشہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی نانہال کی طرف منسوب ہے کیونکہ پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے نانا وہب بن عبد مناف کی کنیت ابوکبشہ تھی اور ان کی اس سے مراد یہ تھی کہ آپ اپنے نانا سے بہت زیادہ مشابہ تھے ۔ بعض نے کہا ہے : پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کی دایہ حلیمہ سعدیہ کے شوہر کی کنیت ابو کبشہ تھی یا حلیمہ کے شوہر کے بھائی کی کنیت ابوکبشہ تھی اور کبھی کبھی ابن ابی کبشہ کے بجائے ابن کبشہ کہا جاتا ہے ، اس سے مراد یہ ابن ابی کبشہ کی ترخیم ہے ، یا کبشہ سے مراد پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے داد عبدالمطلب ہیں جو مکہ میں قبیلہ کے رئیس تھے اور آپ کی بہت زیادہ عظمت و جلالت تھی ۔ یہ بھی کہا گیا ہے کہ ابن کبشہ ، پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم) کے دادا حضرت اسماعیل کی طرف منسوب ہے ، خداوندعالم نے کبشی کو ان کا فدیہ قرار دیا تھا ۔
۸۔ سورہ مائدہ، آیت ۹۱۔
۹۔ شفیعی شاھرودی، گزیدہ ای جامع از الغدیر، ص ۵۵۷۔




طبقه بندی: سوالات شیعی، 
.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک
قالب وبلاگقالب وبلاگ