تبلیغات
بلتستانی ، baltstani - گندم سبسڈی کا خاتمہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، احمد حسین ظفر
قالب وبلاگ قالب وبلاگ

بلتستانی ، baltstani
 

به وبلاگ من خوش آمدید
 


اسلام ٹائمز: پاکستان تحریک انصاف بلتستان کے رہنما کا اسلام ٹائمز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ اقوام متحدہ نے 1948ء میں گلگت بلتستان کے عوام کے لیے سبسڈی دینا لازمی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اشیائے خوردنی کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی سبسڈی تھی لیکن مختلف حکومتوں نے باری باری تمام اعانتوں کو ختم کر دیا اب نوبت گندم تک آ گئی ہے۔ آپ اگر چارٹر اٹھا کے دیکھ لیں تو ایک لمبی فہرست ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکمرانوں کو چاہیئے کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری کرتے ہوئے تمام سبسڈیز کو بحال کریں۔
گندم سبسڈی کا خاتمہ اقوام متحدہ کے چارٹر کی خلاف ورزی ہے، احمد حسین ظفر
احمد حسین ظفر کا تعلق اسکردو سے ہے۔ ابتدائی تعلیم اسکردو سے حاصل کی جبکہ اعلٰی تعلیم ایف سی کالج لاہور سے حاصل کرنے کے بعد شعبہ تعلیم و تدریس سے منسلک ہوگئے۔ کم و بیش چودہ سال المصطفٰی پبلک اسکول اینڈ کالج اسکردو میں بحیثیت پرنسپل خدمات سرانجام دیں۔ اس کے بعد آپ نے سیاسی میدان میں قدم رکھا اور پاکستان تحریک انصاف میں باقاعدہ شمولیت اختیار کی۔ اس وقت پاکستان تحریک انصاف بلتستان میں سیاسی خدمات سرانجام دے رہے ہیں۔ اسلام ٹائمز نے گلگت بلتستان کے حالیہ حالات کے حوالے ایک انٹرویو کیا ہے جو اپنے معزز قارئین کی خدمت میں پیش ہے۔ (ادارہ)

اسلام ٹائمز: آپ ایک طویل عرصہ شعبہ تعلیم و تدریس سے منسلک رہے کیونکر اس اہم شعبے کو خیرباد کہہ کر سیاست کی راہ اختیار کر لی۔؟
احمد حسین ظفر: جہاں تک اس سوال کا تعلق سیاست کا شعور مجھے بچپن سے ہی تھا ابتدائی حصول تعلیم کے دنوں میں ہی طلباء کی رہنمائی کرتے رہے۔ جب میں جماعت ششم کا طالب علم تھا تو اس دور میں میرے اسکول میں سے استاد پندرہ دن غائب رہے تو دیگر طالبعلموں کی قیادت کرتے ہوئے ایک احتجاجی ریلی ڈائریکٹر ایجوکیشن کی آفس تک نکالی۔ اسی طرح جب میں اسلام آباد میں ایچ نائن کالج میں تعلیم حاصل کر رہا تھا تو مجھے یہ اعزاز حاصل رہا ہے کہ میں گلگت بلتستان کا واحد طالب علم تھا جس نے پروٹیریل بورڈ کے انتخابات میں حصہ لیا اور چیف پروکٹر کے طور پر منتخب ہوا جبکہ اس وقت انیس سو میں سے صرف پچاس طالب علموں کا تعلق گلگت بلتستان سے تھے۔ پھر کراچی جانا ہوا تو وہاں بھی بلتستان اسٹوڈنٹس فیڈریشن میں بھی مختلف عہدوں پر کام کیا۔ اس کے بعد میں نے تدریس کا شعبہ انتخاب کیا لیکن میں نے محسوس کیا کہ گلگت بلتستان میں سیاسی شعور اور پسماندگی کو ختم کرنا، عوام کی سیاسی فکر کو پختہ کرنا اور قوم کو حقوق کے حصول کے لیے آمادہ کرنا بھی نہایت اہم ہے۔

اسلام ٹائمز: آپ نے سیاسی کیرئیر کا آغاز پاکستان تحریک انصاف سے کیوں کیا۔؟

احمد حسین ظفر: جب میں نے سیاسی میدان میں قدم رکھا تو میرے نزدیک بہت ساری پارٹیاں تھیں۔ میں بذات خود پاکستان میں پاکستان پیپلز پارٹی کو ایک حقیقی جمہوری پارٹی کے طور پر تسلیم کرتا ہوں۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے حوالے سے نرم گوشہ بھی رکھتا ہوں لیکن پاکستان پیپلز پارٹی اپنی مینیفیسٹو سے ہٹ چکی ہے، موجودہ قیادتوں نے اس جمہوری پارٹی کو اپنے اہداف سے دور ہٹا دیا ہے۔ اس کے بعد پاکستان تحریک انصاف کے اغراض و مقاصد اور کرپشن کے خلاف قیام کے ساتھ ساتھ بنیادی تبدیلی کے نعرے کے ساتھ میدان عمل میں ٹھوس اور جامع پروگرام کے ساتھ آگئی تو میں نے اس سے بہتر کسی پارٹی کو نہیں سمجھا اور اپنی فعالیت اسی پارٹی میں  شروع کی۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان میں اس وقت ہر طرف دھرنوں کا سلسلہ جاری ہے کیا یہ عمل عوام کو مشکلات میں نہیں ڈال رہا۔؟
احمد حسین ظفر: یہ جمہوریت کا حسن ہے کہ عوام اپنے حقوق کے حصول کے جدوجہد کریں اور صدائے احتحاج بلند کریں۔ میں سمجھتا ہوں کہ نو دنوں سے جاری گلگت بلتستان کے عوام کا یہ عظیم الشان اور تاریخی دھرنا اپنے حقوق کے حصول کے لیے ہے۔ گلگت بلتستان کی لاکھوں عوام گذشتہ نو دنوں سے سڑکوں پر ہے لیکن آپ نے دیکھا کہ کہیں ایک گملا یا ایک شیشہ ٹوٹا ہو۔ پرامن احتجاج میں مصروف ہیں اور اپنے حقوق کے حصول کے لیے تگ و دو کر رہے ہیں۔ گلگت بلتستان کی عوام اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق گذشتہ چھ دھائیوں سے دی جانے والی سبسڈی کو ختم کرنے پر دھرنا دے رہے ہیں۔ اقوام متحدہ نے 1948ء میں گلگت بلتستان کے عوام کے لیے سبسڈی دینا لازمی قرار دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق تمام اشیائے خوردنی کے علاوہ ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں بھی سبسڈی تھی لیکن مختلف حکومتیں باری باری تمام اعانتوں کو ختم کرتی گئیں اب نوبت گندم تک آ گئی ہے۔ آپ اگر چارٹر اٹھا کے دیکھ لیں تو ایک لمبی فہرست ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ حکمرانوں کو چاہیئے کہ اقوام متحدہ کی چارٹر کی پاسداری کرتے ہوئے تمام سبسڈیز کو بحال کریں۔

اسلام ٹائمز: گلگت بلتستان انتظامیہ نے عوامی ایکشن کمیٹی کے دھرنوں سے قبل دفعہ 144 نافذ کیا تھا جبکہ کمیٹی نے پاسداری نہیں کی، کیا یہ غیرقانونی عمل نہیں ہے۔؟
احمد حسین ظفر: دفعہ 144 کا نفاذ دراصل مہدی شاہ حکومت کی بوکھلاہٹ کا نتیجہ تھا۔ صوبائی حکومت بوکھلا گئی تھی۔ صوبائی عہدیداروں کو یہاں تک معلوم نہیں کہ دفعہ 144 کا نفاذ کن مواقع پر کیا جاتا ہے۔ دھرنا، ہڑتال، احتجاج اور جلسے جلوس تو جہوری دور حکومت میں کوئی غیرقانونی عمل نہیں۔ اگر دفعہ 144 کا نفاذ صحیح ہوتا تو جب عوامی ایکشن کمیٹی نے اس دفعہ کے خلاف کورٹ سے رجوع کیا تو کورٹ نے دفعے کو کیوں کالعدم قرار دیا۔

اسلام ٹائمز: عوامی ایکشن کمیٹی کے مطالبات کیا کیا ہیں اور گندم سبسڈی کو ختم کرنے کا نوٹیفیکشن کیوں جاری کر دیا تھا۔؟

احمد حسین ظفر: عوامی ایکشن کمیٹی نے متحد ہو کر عوامی حقوق کے لیے آواز بلند کی اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ مہدی شاہ نے محکمہ برقیات کے ملازمین کو مستقل کرنے کے لیے جو اضافی بوجھ غریب عوام پر ڈالا ہے وہ ظلم ہے۔ انہوں نے سمری بنائی تھی کہ جون کے آخر تک گندم کی قیمت میں تین گنا اضافہ کرنا تھا لیکن عوامی ایکشن کمیٹی نے اس ظلم کے خلاف قیام کا اعلان کر دیا تو اگرچہ گندم کی قیمتوں میں کمی کی تاہم پرانی قیمت تک لے جانے کے مطالبے پر کام نہیں ہو رہا۔ اس کے ساتھ ساتھ عوامی ایکشن کمیٹی نے چند دیگر مگر اہم مطالبات کو شامل کر کے ایک چارٹر آف ڈیمانڈ ترتیب دی جسے منظور کرنے تک احتجاجی دھرنوں کا سلسلہ جاری رکھا جائیگا۔ ان مطالبات میں گندم کی قیمت میں کمی، مٹی کا تیل و دیگر اشیاء خوردنوش اور پی آئی اے کے کرایوں میں حاصل سبسڈی، گلگت بلتستان کے ہسپتالوں میں غریب مریضوں پر عائد کردہ مختلف ٹیکسوں کا خاتمہ تمام ہسپتالوں میں تمام دوائیاں اور مفت علاج، معدنیات کی خرید و فروخت نقل و حمل پر پابندی کا خاتمہ اور غیر مقامی افراد کو لیز پر نہ دینے کی پابندی،  دیامر بھاشا ڈیم کمیٹی کے مطالبات کی منظوری، No Texation Without Represention کے عالمی اصول کے مطابق گلگت بلتستان حکومت اور وفاقی حکومت کی طرف سے عائد کئے جانے والے تمام ٹیکسز واپسی اور کرگل لداخ روڈ اور نوبرا چھوربٹ روڈ کی واگذاری و گلگت اسکردو روڈ کی تعمیر شامل ہے۔

اسلام ٹائمز: صوبائی حکمرانوں نے کہا ہے کہ عوامی ایکشن کمیٹی غیرملکی ایجنڈے پر کام کر رہی ہے اس کے بارے میں آپ کیا کہنا چاہیں گے۔؟
احمد حسین ظفر: عوامی ایکشن کمیٹی گلگت بلتستان میں مقامی پارٹیوں کے علاوہ پاکستان کی بڑی سیاسی جماعتیں جن میں پاکستان تحریک انصاف، متحدہ قومی موومنٹ، آل پاکستان مسلم لیگ، پاکستان مسلم لیگ قاف اور مجلس وحدت شامل ہے۔ کس طرح ان جماعتوں کو آپ غیر ملکی ایجنٹ قرار دے سکتے ہیں۔ میں پاکستان تحریک انصاف کے ذمہ دار فرد کی حیثیت سے بتانا چاہتا ہوں کہ کس طرح ہم ملک دشمن ہو سکتے ہیں۔ ہم نے تو اس ملک کے حصول کے لیے قربانیاں دی ہیں، ہمارے آباو و اجداد نے نہتے ڈوگروں کو بھگایا اور پاکستان کے ساتھ الحاق کر دیا۔ کس طرح اس خطے کے عوام کو غیر ملکی ایجنٹ کہہ سکتے ہیں۔ غیر ملکی ایجنٹ تو وہ حکمران ہیں جنہوں نے ملکی وسائل کو لوٹ کر بیرون ملک لے گئے اور ملک کو بحرانوں میں ڈال دیا۔ ملک کے دشمن تو وہ لوگ ہیں جو اس خطے کے وسائل کو لوٹ کھانے میں مصروف ہیں۔ معرکہ کارگل ہو یا وانا آپریشن اس خطے کے جوانوں کے خون وطن کی سلامتی اور استحکام کے لیے بہایا جاتا رہا ہے۔

اسلام ٹائمز: گندم سبسڈی سے کس صورت میں آپ دستبردار ہونے کے لیے تیار ہیں۔؟
احمد حسین ظفر: ہم خیرات نہیں مانگ رہے ہیں یہ ہمارا بنیادی حق ہے۔ ہمیں سینیٹ اور اسمبلی میں نمائندگی دے دی جائے اور وہ حقوق جو دیگر صوبوں کے عوام کو دیئے جا رہے ہیں تو گندم کی پوری قیمت ادا کرنے کے لیے بخوشی تیار ہیں جو پنجاب والے ادا کر رہے ہیں۔

اسلام ٹائمز: اگر گندم سبسڈی کا مطالبہ تسلیم نہیں کیا جاتا تو دھرنوں کے علاوہ کیا آپشن آپ کے پاس ہے۔؟
احمد حسین ظفر: اگر مطالبات اب بھی منظور نہیں ہوتے تو ہمارے پاس بڑے آپشنز موجود ہیں ان میں گلگت کی طرف لانگ مارچ، اسلام آباد کی جانب لانگ مارچ اگر پھر بھی نہیں ہوتا تو عالمی عدالت میں بھی رجوع کر سکتے ہیں۔

اسلام ٹائمز: صوبائی حکومت کے سربراہ کا کہنا ہے کہ سبسڈی کے نام پر مجلس وحدت سیاست چمکا رہی ہے۔؟

احمد حسین ظفر: یہ تاثر بھی مہدی شاہ کی بوکھلاہٹ کا شاخسانہ ہے۔ یہ عوامی ایکشن کمیٹی بہت ساری جماعتوں کی نمائندہ جماعت ہے۔ اس میں صرف سیاسی تنظیمیں ہی نہیں بلکہ مذہبی اور غیرسیاسی تنظیمیں بھی موجود ہیں۔ مجلس وحدت سے بڑھ کر پاکستان تحریک انصاف اور دیگر پارٹیوں کا کردار ہے۔ ان کا اس طرح کے بیانات عوامی ایکشن کمیٹی کو جانبار کرنے کی سازش ہے۔




طبقه بندی: اهم خبرین، 
.: Weblog Themes By Pichak :.


تمامی حقوق این وبلاگ محفوظ است | طراحی : پیچک
قالب وبلاگقالب وبلاگ